معجزات القرآن — Page 44
" “ 85 میں اپنی مرضی سے نہیں آئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا اور اُس زمانے میں پیدا کیا جس میں آپ کی پیدائش کو مناسب سمجھا۔سو آپ کا وجود خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ اخبار غیبیہ جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے خدا کا قول ہیں۔خدا کے فعل اور قول میں مطابقت کا پایا جانا ایک لازمی امر ہے۔لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس موقع پر حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کی زندگی کے اُن اہم نکات کا جائزہ لیں کہ جن میں اُن کی اپنی ذات کا کوئی دخل نہیں۔سو وہ اہم نکات حسب ذیل ہیں :۔“ 86 بحساب شمسی 1214ء میں۔پھر 47 سال کی عمر میں یعنی 1297ھ میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ” براہین احمدیہ کو مکمل فرمایا اور اس کی تاریخ تکمیل ” یا غفور۔1297 کے کلمات میں ظاہر فرمائی۔پھر تیرھویں صدی کے آخر پر آپ چودھویں صدی کے مجدد بن کر سامنے آئے۔پھر 1306ھ میں آپ نے بیعت لی۔بحساب عیسوی یہ سن 1889ء تھا۔پھر 1326ھ میں حضور کا وصال ہوا۔بحساب عیسوی یہ سن 1908 ء تھا۔اب اگر ہم نے آدم علیہ السلام سے لے کر عیسی علیہ السلام کے زمانے تک اور عیسی علیہ السلام سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک اور نبی کریم صلا یا یہ مہم کے حضرت بانی" جماعت احمدیہ کی زندگی کے اہم نکات زمانے سے لے کر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیدائش کے زمانے کا حساب لینا ہو اور ہم پہلے یہ بتا چکے ہیں کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے کہ سورة فاتحہ عمر دنیا اور مسیح موعود کے زمانے کی بشارت دیتی ہے۔آپ کا یہ استنباط سورۃ فاتحہ کے ظاہری کلمات پر مبنی ہے۔اب اگر ہم نے یہ دیکھنا ہو کہ آیا سورہ فاتحہ کا عددی پہلو بھی حضور کے زمانہ کی نشاندہی کرتا ہے یا نہیں تو اس کے لئے پہلے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ حضور عمر دنیا کے کس حصہ میں ظاہر ہوئے اور حضور کی زندگی کے اہم نکات کون کون سے ہیں۔حضور کے زمانہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سن ہجرت سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے سن پیدائش سے کیا نسبت ہے اور حضور علیہ السلام کے زمانہ پیدائش تک شمسی اور قمری حساب میں کس حد تک تفاوت پیدا ہوا؟ از روئے تحقیق ثابت ہے کہ آپ بحساب قمری 1250ھ میں پیدا ہوئے اور پھر آپ کی پیدائش سے لیکر آخر زمانے تک کا حساب لینا ہو تو اس صورت میں ہمیں سورۃ العصر کے اعداد سے مدد لینی پڑے گی۔سورۃ العصر کے اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا وصال بعد از مؤلد آدم علیہ السلام بحساب قمری 4740 میں ہوا اور بحساب شمسی 4598 میں۔ان دونوں سنوں میں 142 سال کا فرق ہے اور یہ فرق الحد کے اعداد 71 سے دو گنا ہے۔اب اگر ہم نے یہ دیکھنا ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کب پیدا ہوئے اور ان کے وقت تک شمسی قمری حساب میں کس قدر تفاوت واقع ہوا تو ظاہر ہے کہ ہم آپ کا سن پیدائش بحساب شمسی معلوم کرنے کیلئے 4588 میں سے 621 سال خارج کر دیں گے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 621 سال کے بعد ہجرت فرمائی ہے۔سو حضرت عیسی علیہ السلام کاسن پیدائش بعد از آدم علیہ السلام بحساب