معجزات القرآن

by Other Authors

Page 40 of 126

معجزات القرآن — Page 40

”“ 77 2373 کے اعداد میں سے 1300 الگ ہو گئے اور 1073 کے اعداد جو اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کے اعداد ہیں الگ ہو گئے۔یہ کیفیت دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ حروف مقطعات کے اعداد ملت اسلامیہ کی مجموعی عمر اور نشاۃ ثانیہ کی انفرادی عمر کے جامع ہیں ملت کی مجموعی عمر 2373 سال ہے جو الحمد سے اِھدِنَا تک کے کلمات میں پائی جاتی ہے۔اس موقع پر یہ امر قابل توجہ ہے کہ لفظ الحمد میں اسم احمد موجود ہے اور لفظ اھدنا میں لفظ مھدی کا مادہ موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 63 سال تھی جن میں سے 53 سال مکہ میں گزرے اور دس سال مدینہ میں گزرے۔لفظ احمد کے اعداد 53 ہیں اور یہ حضور کی مکی زندگی کے آئینہ دار ہیں اور لفظ اھل کے اعداد 10 ہیں اور یہ حضور کی مدنی زندگی کے آئینہ دار ہیں۔حضور کی اس بشری عمر میں سے 23 سال نبوی یا نوری زندگی کے ہیں جن میں سے 13 سال مکہ میں گزرے اور یہ اعداد لفظ احد کے اعداد ہیں اور لفظ أحد دراصل احمد سے ماخوذ ہے۔احمد میں حرف میم موجود ہے اس کے عدد 40 ہیں۔یہ اعداد حضور کی قبل از نبوت زندگی کے حامل ہیں لہذا لفظ آحد مکی نبوی زندگی کے زمانے کا آئینہ دار ہے پھر نبوی زندگی کے 23 سال میں سے 10 سال مدینے میں گزرے سولفظ اچھل اس مدنی زندگی کے 10 سالہ دور کا آئینہ دار ہے۔خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ایک بشری اور ایک نوری۔حضور کی بشری عمر احمد اِهْدِ یعنی ” اے احمد ہدایت دے“ میں دکھائی گئی ہے۔یہ کل 63 سال ہیں اور حضور کی نوری زندگی کو اَحَدُ۔اھدِ یعنی اے یکتائے روز گار ہدایت دے ان کلمات کے اعداد 23 ہیں۔یہی 23 سال کے اعداد ملت کے لئے 23 صدیوں میں منتقل ہو گئے اور حضور کی بشری زندگی جو 63 سال ہے وہ بھی ساتھ رہی گو یا ملت کی عمر بعد از وصال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 2363 سال “ 78 ہے اور از سن ہجرت 2373 سال ہے۔سوسورۃ فاتحہ میں اسی کیفیت کو الحمد سے لے کر اهْدِنَا تک کے کلمات میں پیش کیا گیا ہے۔لہذا یہ 2373 اعداد اپنی صحت کے آپ گواہ ہیں کسی مزید گواہ کی ضرورت نہیں۔سو یہ سورۃ فاتحہ کا دوسرا معجزہ ہے۔اب سورۃ فاتحہ کے ایک اور معجزے کی تفصیل ملاحظہ ہو۔اس کی کیفیت یہ ہے کہ ملت کی مجموعی عمر 2373 سال بتانے کے بعد اُس میں ملتِ اولیٰ کیلئے 1300 سال الگ کر دیئے اور ملت ثانیہ کے لئے 1073 سال الگ کر دیئے۔اس کے بعد 1300 سال کا نہایت لطیف طریقے سے تجزیہ کر کے اُس کے 300 سال الگ کر دیئے اور 1000 سال الگ کر دیئے۔300 سال کے مقابلہ میں لفظ صراط رکھا جس کے اعداد 300 ہیں۔یہ لفظ صراط وہ ہے جو صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے شروع میں آتا ہے۔اور پھر 1000 سال کے مقابلے میں حرف ”غ “ رکھ دیا اور یہ حرف وہ ہے جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ کے کلمات کے شروع میں آتا ہے۔اب ملتِ اسلامیہ کی مجموعی عمر کا نقشہ مندرجہ ذیل صورت میں سامنے آتا ہے: غ = 1000 ، صِراط = 300 ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ = 1073 - میزان : 2373 یہاں یہ چیز قابل توجہ ہے کہ یہ کیفیت ہمارے سامنے دو حقیقتوں کو پیش کرتی ہے۔اول یہ کہ :۔حدیث شریف میں الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ “ 66 (مشکوۃ مجتبائی صفحہ 471) کے جو الفاظ آئے ہیں علمائے اسلام نے ان کی تشریح یہ کی ہے کہ ماتین سے مراد وہ 200 سال ہیں جو 1000 گزر جانے کے بعد آئیں گے۔سو اللہ تعالیٰ نے حرف غ‘ پہلے رکھ کر 1000 سال محمدی کو ظاہر فرمایا ہے اور پھر لفظ صراط رکھ کر 66۔