معجزات القرآن

by Other Authors

Page 41 of 126

معجزات القرآن — Page 41

”“ 79 اسلام کی گیارھویں ، بارھویں اور تیرھویں صدی کو پیش کر کے بتایا کہ یہ تین صدیاں نشأة اولیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے مابین ایک عبوری دور کی حیثیت رکھتی ہیں اور حرف ”طا“ سے جو لفظ اچھی کے بعد واقع ہوا ہے مہدی علیہ السلام کا زمانہ شروع ہوتا ہے سو یہ سورۃ فاتحہ کا ایک اور معجزہ ہے۔وو دوسری حقیقت یہ ہے کہ اس نقشے میں حرف طا“ اور لفظ اھدنا‘ میں حرف ھا کو باہم متصل کردیا گیا ہے اسی کیفیت کو حروف مقطعات میں سورۃ طہ میں دکھایا گیا ہے۔طہ کے اعداد 14 ہیں۔گویا حرف’ھا‘ سے جو تیرھویں صدی کے بعد چودھویں صدی کو ظاہر کرتا ہے امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔اس کی کیفیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سورۃ النحل سے لے کر سورۃ طہ تک کا زمانہ 1300 سال ہے اور اس کے بعد امام مہدی کا زمانہ ہے جس کی بشارت سورۃ الحجر میں دی گئی ہے۔پھر سورۃ مریم میں دی گئی ہے۔اور ان سورتوں میں لفظ غلام استعمال کیا گیا ہے۔اس سے پہلے یہ لفظ اللہ تعالیٰ یا ملائکہ کی طرف سے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔پھر سورۃ فاتحہ کا ایک اور کمال دیکھئے۔وہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ سورۃ مریم میں جو حرف’ص “ آیا ہے اس پر 1300 سال ختم ہو رہے ہیں اور آگے چودھویں صدی شروع ہوتی ہے جو مسیح موعود کی ہے اس کیلئے سورۃ فاتحہ نے جوطریق اختیار کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے: غير -1210 ص_90=1300 اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ = 1073 اس کیفیت میں الف محمدی اور میں تین کوجمع کر دیا گیا ہے اور پھر بتایا گیا ہے کہ آیات کبری میں سب سے بڑی آیت مسیح موعود کا وجود ہے جو حرف ص کی “ 80 80 صورت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ حرف ص صورة لفظ صراط سے ماخوذ ہے اور عددًا سورۃ فاتحہ کے لفظ ملک کے مترادف ہے۔دونوں کے اعداد 90 ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب سورۃ فاتحہ کے کلمات کو الحمد سے شمار کیا جائے تو لفظ ملك۔پر پہنچ کر ہم تیرھویں صدی میں داخل ہو جاتے ہیں اور حرف ص اسی لفظ ملک کے متوازی ہوکر لفظ ملک کے مترادف ٹھہرتا ہے ایسے ہی لفظ اهدنا بھی لفظ ملك كے متوازی ہوکر حرف ص سے آکر متصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ طریق کتنا حکیمانہ ہے کہ اُس نے چند حروف کے اشارات میں ہمیں سمجھا دیا کہ حرف ص ابن مریم کی بشارت کو لئے ہوئے ہے اور حرف طه امام مہدی کی بشارت لئے ہوئے ہیں اور لفظ ملك امام مہدی علیہ السلام کے زمانے کو لئے ہوئے ہے۔یہ وہ باریک نکات ہیں جو موٹی عقل کے لوگوں کیلئے ناقابل فہم ہیں لیکن حقیقت یہی ہے جو ہم نے بیان کر دی ہے۔سورۃ فاتحہ اُم القرآن ہے۔اس میں سارا قرآن موجود ہے بشرطیکہ اس میں کوئی تدبر کرنے والا ہو۔اس موقع پر بہتر ہوگا کہ ہم ان بعض پیشگوئیوں کا ذکر کر دیں جو امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور سے تعلق رکھتی ہیں اور پھر اُس کے ساتھ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کے اہم سوانح حیات اور ان کے وہ کلمات جو سورۃ فاتحہ سے تعلق رکھتے ہیں قارئین کے سامنے رکھیں اور پھر یہ دیکھیں کہ سورۃ فاتحہ ان کوائف کی کس طرح تصدیق کرتی ہے۔حضرت امام مہدی کی آمد کے متعلق اہل اللہ نے جتنی بھی پیشگوئیاں کی ہیں اُن سب میں حرف غ اور حرف را پایا جاتا ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ حرف غ کے عدد 1000 ہیں اور حرف را کے 200۔جس کے معنی یہ ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام تیرھویں صدی میں پیدا ہوں گے لیکن بدقسمتی سے شیعہ صاحبان نے یہ سمجھ لیا ہے کہ "