معجزات القرآن

by Other Authors

Page 37 of 126

معجزات القرآن — Page 37

”“ 71 ان اعداد میں لفظ مالک کے الف کی اکائی شامل ہے اگر یہ اکائی ہم خارج کر دیں تو پھر یہ اعداد 10182 بنتے ہیں۔اس اکائی کے خارج کرنے کا ہمیں اختیار ہے کیونکہ لفظ مالک کی دوسری قرأت ملک ہے۔یہ اعداد جو 10182 یا 10183 ہیں عمر دنیا سے کہیں زیادہ ہیں۔لہذا ظاہر ہے کہ یا تو یہ اعداد ملتِ اسلامیہ کی عمر اور عمر دنیا کی مجموعی مدت کے مظہر ہیں اور یا پھر حروف مقطعات کی مجموعی قیمت کے جو 3385 ہے اور عمر دنیا کے اعداد کی جامع ہیں۔ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دو پیاروں کو اطلاع دی کہ حروف مقطعات کا ماخذ سورۃ فاتحہ ہے۔لہذا ہمیں دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سے کلمات ہیں کہ جن کے اندر حروف مقطعات کے جملہ حروف بھی پائے جاتے ہوں اور ان کی عددی قیمت بھی 3385 ہو۔طویل جدو جہد کے بعد ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ سورۃ فاتحہ کے مندرجہ ذیل کلمات حروف مقطعات کا ماخذ ہیں اور ان کی عددی قیمت بھی 3385 ہے وہ کلمات حسب ذیل ہیں :۔الْحَمْدُ لِلهِ۔179، رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدين 1297، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن 836 ، اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ 1073 - میزان کل : 3385 یہ سورۃ فاتحہ کا پہلا معجزہ ہے کہ اس نے حروف مقطعات کے ذریعے سارے قرآن شریف کو اپنے ضبط میں لے لیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر سورۃ فاتحہ کے جملہ اعداد میں سے جو 10182 ہیں حروف مقطعات کے جملہ اعداد کو خارج کر دیا جائے تو باقی 6797رہ جاتے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حروف مقطعات کے شروع میں تین سورتوں کے “ 72 مقطعات کی عددی قیمت 303 دکھائی گئی ہے اور یہ سورتیں حسب ذیل ہیں:۔بقره: الم - 71 ، آل عمران: الم۔71، الاعراف: البص 161 میزان : 303 اس کیفیت سے سورۃ فاتحہ کے اعداد کا اور حروف مقطعات کے اعداد کا جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ قابل ملاحظہ ہے۔اعداد سورۃ فاتحہ = 10182 اعداد ابتدائی حروف مقطعات = 303۔اعداد بقیہ حروف مقطعات - 3082 اس نقشے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حروف مقطعات کے ابتدائی 303 کے اعداد دو طرفہ حیثیت رکھتے ہیں۔ایک طرف اُن کا تعلق سورۃ فاتحہ کے اعداد سے ہے اور دوسری طرف حروف مقطعات سے۔اگر ان ابتدائی اعداد کو جو 303 ہیں سورۃ فاتحہ کے اعداد میں جمع کیا جائے تو پھر سورۃ فاتحہ کے اعداد 10485 بن جاتے ہیں اور اگر ان میں سے حروف مقطعات کے اعداد خارج کئے جائیں جو 3385 ہیں تو پھر بقیہ اعداد پورے 7100 رہ جاتے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے اعداد اور حروف مقطعات کے اعداد باہم مل کر بتاتے ہیں کہ عمر دنیا بحساب قمری 7100 سال ہے۔اور پھر اس کیفیت سے یہ بات بھی از خود سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حروف مقطعات میں سے پہلے التھ کے حروف رکھ کر یہ اشارہ فرمایا ہے کہ عمر دنیا 71 صدیاں ہے۔یہاں تک جو کچھ کہا گیا ہے یہ میری تحقیق اور تدبر کا آخری نقطہ تھا۔اس سے آگے بڑھنا میرے لئے محال تھا کیونکہ باوجود اس علم کے کہ عمر دنیا سات ہزار سال کے لگ بھگ ہے مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کب ظہور پذیر ہوئے اور جب تک یہ علم حاصل نہ ہوتا اس وقت