معجزات القرآن

by Other Authors

Page 29 of 126

معجزات القرآن — Page 29

”“ ہزار کو عربی میں ”الف“ کہتے ہیں اور حدیث شریف میں یہ جو آیا ہے کہ 55 55 الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِأَتين - (شکوہ محبتہائی باب اشراط الساعة الفصل الثالث صفحه 471) اس کے معنی یہی ہیں کہ حرف ”غ “ کے عدد ہزار کے بعد حرف ”ر“ کا عدد مقصود بالذات ہے کیونکہ “ کے عدد 200 ہیں۔ان تمام حروف کا مجموعی عدد 5995 ہے۔یہ عدد یا در کھنے کے قابل ہے کیونکہ آگے چل کر اس کی حکمت آپ کے سامنے آئے گی۔حساب ابجد کے سمجھنے کیلئے چند اصولوں کا سمجھنا ضروری ہے۔1۔حروف کو آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے۔مثلاً لفظ مالک ہے آپ اگر اس کی حقیقت بیان کرنا چاہیں تو اس کے حروف کو آگے پیچھے کریں تو پھر آپ کو اس میں جو کمالات موجود ہیں نظر آجائیں گے بالفرض اگر آپ اسے الٹا پڑھیں تو لفظ کلام آپ کے سامنے آئے گا اور اسی لفظ سے لفظ کامل اکمل اور کمال بن سکتے ہیں۔یہ طریق اختیار کرنا عددی حساب میں جائز ہے اور محلِ اعتراض نہیں کیونکہ اس سے مزید معارف حاصل ہوتے ہیں۔فرض کریں لفظ مالک ہزار سال کے بعد واقع ہوا تو ہم ہزار سال کو حرف غ “ سے تعبیر کریں گے اور جب لفظ مالک اس کے ساتھ لگے گا تو پھر بجائے غمالک کے لفظ غلامك بھی ہمارے سامنے آسکتا ہے۔2 عددی حساب میں شمسی ، قمری حساب کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔اس کا اصول ہمیں قرآن شریف نے یہ بتایا ہے کہ ہر شمسی صدی پر اگر تین سال کا اضافہ کر دیا جائے تو وہ قمری میں تبدیل ہو جاتی ہے جیسے کہ فرمایا اصحاب کہف نو او پر تین سوسال کہف میں رہے۔ان کلمات میں اشارہ یہ ہے کہ شمسی حساب سے وہ پورے تین سو سال رہے اور قمری حساب سے تین صدیوں پر 9 سال کا اضافہ ہو گیا۔3 - عددی حساب میں ایک اکائی کا تفاوت واقع ہوتا رہتا ہے مثلاً سورۃ العصر “ 56 56 میں جو لفظ اُمَنُوا موجود ہے اس کے الف کے اُو پر جو الف ہے اس کو شمار کرنا یا نہ کرنا ہمارے لئے جائز ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر پورے سال ظاہر کرنے ہوں اور ناقص سال کو چھوڑ دینا مقصود ہو تو ہم اس الف کی اکائی کو ترک کر سکتے ہیں اور اگر ناقص سال بھی دکھانا مقصود ہو تو پھر ہم اس کو شمار کر لیں گے۔سورۃ فاتحہ میں بھی یہ گنجائش رکھی گئی ہے۔لفظ مالک کی ایک اور قرآت بھی ہے اور وہ ہے لفظ ملک۔لہذا ہم حسب ضرورت اس اکائی کے شمار کرنے یا نہ کرنے میں مختار ہیں۔اس کے علاوہ اگر بالفرض لفظ حمد اور لفظ غلام آپ کو اکٹھے نظر آئیں تو اُن ہی حروف کو آگے پیچھے کرنے سے احمد مغل کے حروف بھی نظر آسکتے ہیں۔سو یہ کیفیت دراصل تصرف نہیں بلکہ یہ بصیرت کا ملہ ہے۔جو حروف کے پوشیدہ حسن کو دیکھ لیتی ہے۔4۔حروف ابجد میں جو اعداد مساوی ہوں وہ ایک دوسرے کے مترادف کہلاتے ہیں مثلاً حروف مقطعات میں حرف ”ص“ کے اعداد 90 ہیں۔ایسے ہی سورۃ فاتحہ کے لفظ ملک کے اعداد بھی 90 ہیں۔لہذا یہ دونوں مترادف کہلائیں گے۔آپ آگے چل کر دیکھیں گے کہ حرف ”ص“ اور لفظ ” ملك “ایک دوسرے کے متوازی واقع ہوں گے جس کے معنی یہ ہوں گے کہ حرف "ص" لفظ ” ملك “ کے قائم مقام ہے۔66