معجزات القرآن — Page 27
“ 51 “ 52 52 نَبِيُّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَ إِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَى فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔“ ( بخاری فضائل القرآن) یعنی ہر نبی کو ایسا نشان دیا گیا کہ جس کو دیکھ کر اس کی قوم اس پر ایمان لا سکتی تھی لیکن جو چیز مجھے دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرمائی سوامید ہے کہ قیامت کے دن میرے ماننے والے تمام انبیاء کے ماننے والوں سے زیادہ ہوں گے۔اس حدیث سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضور" کا سب سے بڑا معجزہ قرآن شریف ہے جو ہر زمانے کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا رہے گا اور اس طرح حضور کے ماننے والے دوسرے انبیاء کی اُمتوں سے کہیں زیادہ ہو جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ابدی معجزہ اور زندہ نشان ہے جو ہر وقت دکھایا جا سکتا ہے۔عصائے موسی کا جو معجزہ دکھلایا گیا تھا اب اس کو کوئی کہاں سے لائے۔اگر وہ ابدی ہوتا تو چاہئے تھا کہ اب تک کسی صندوق میں رکھا ہوتا اور کچھ حصہ اس کا سانپ بھی بنا ہوتا۔اس کے برعکس قرآن شریف جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس کی مثال ایک ایسے سدا بہار درخت کی سی ہے جو ہر زمانے میں ضرورت کے مطابق پھل دیتا ہے۔اس کے دقائق اور معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے مطابق کھلتے ہیں۔اس کے باطنی معارف جن کا وجود احادیث صحیحہ اور آیات بینہ سے ثابت ہے فضول طور پر کبھی ظہور نہیں کرتے بلکہ معجزہ فرقانی ایسے ہی وقت میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے جبکہ اس روحانی معجزہ کے ظہور کی اشد ضرورت پیش آتی ہے۔خاکسارا اپنی اس کتاب میں اس پاک کتاب کے تین ایسے معجزات پیش کر رہا ہے جو ہمارے اس زمانے میں آکر ظاہر ہوئے اور جن کی اس زمانے میں ضرورت تھی وہ معجزات حسب ذیل ہیں :۔1 - قرآن شریف کے حروف اور ان کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں۔ہی وہ دعوی ہے جو حضرت بانی جماعت احمد یہ مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول امسیح (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 422) میں فرمایا اور اس کے ثبوت میں سورۃ العصر کے اعداد پیش کر کے بتایا کہ ان اعداد میں آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سنِ وصال تک کا زمانہ دے دیا گیا ہے۔خاکسار اس دعویٰ کی تائید میں سورۃ فاتحہ ،حروف مقطعات اور اسماء انبیاء کے اعداد پیش کرتا ہے۔2۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے قرآن شریف کی معجزانہ شان کے بارے میں ایک اور عجیب دعوی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے۔“ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 119) اس دعوی کے ثبوت میں خاکسار ان تمام قصوں کے متعلق جن کا تعلق سورۃ طہ کے زمانے سے ہے اس کتاب میں مفصل بحث کر کے یہ ثبوت پیش کر رہا ہے کہ ان قصوں کا تعلق امت محمدیہ کے کس کس زمانہ سے ہے اور ان کا کن افراد سے خصوصی لگاؤ ہے۔3۔اس حصہ میں قرآن شریف کی ان اخبار غیبیہ کو پیش کیا گیا ہے جو ہمارے زمانے میں آکر پوری ہوئیں۔اس عنوان کے تحت انکشافات نو اور اختراعات جدیدہ کے بارے میں یہ ثبوت بہم پہنچایا گیا ہے کہ قرآن شریف میں یہ حقائق پہلے سے