معجزات القرآن

by Other Authors

Page 111 of 126

معجزات القرآن — Page 111

”“ 219 “ 220 طبیعات عاجز ہیں اُسی طرح عالم قرآن کی وسعتوں کو سمجھنے سے اہل ایمان قاصر ہیں۔قرآن کریم کی ترتیب کو سمجھنے کے صحیح وسائل دنیا کے کسی انسان کے لئے خواہ وہ اپنے ایمان کے اعتبار سے کتنا ہی بلند پایہ سے کتناہی بلند پایہ کیوں نہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں ہے اور اگر ترتیب ہے تو صرف اتنی کہ لمبی سورتیں پہلے رکھ دی گئی ہیں اور چھوٹی بعد میں۔اس غلط خیال کی ترویج میں مستشرقین یورپ نے خاص حصہ لیا ہے اور بعض مسلمان بھی اپنی سادگی کی بناء پر ان کے ہمنوا ہو گئے۔لیکن اس قسم کے خیالات رکھنے والے مسلمان ایک حد تک معذور تھے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی معجزانہ ترتیب کا فہم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ وابستہ تھا۔جیسے فرمایا:۔إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (القيامة:18تا20) قرآن کریم کی ترتیب کو سمجھنے کیلئے دو باتوں کی ضرورت ہے۔اول یہ کہ انسان عربی زبان میں ماہر ہو۔دوم یہ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا ایمان ہو۔اور اس کا آئینہ قلب اتنا صاف ہو کہ صفات الہیہ کا چہرہ اس میں منعکس ہو سکے۔اگر یہ دو باتیں کسی انسان میں موجود نہ ہوں تو پھر وہ قرآن کریم کی ترتیب کو سمجھنے سے یقیناً محروم رہے گا۔قرآن کریم کی ترتیب کو سمجھنے میں ایک اور مشکل بھی حائل ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا ینسی کی مصداق ہے۔یعنی بھول چوک سے ہے۔لیکن انسان سہو و نسیان کا پتلا ہے وہ قرآن کریم کے جملہ مضامین اور مطالب کو بیک وقت مستحضر نہیں کر سکتا۔اگر انسان میں یہ کمزوری نہ ہوتی تو پھر ہر مومن قرآن کریم کی ترتیب کو بیک وقت اپنے ظرف کے مطابق سمجھنے کی اہلیت رکھتا۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح زمان و مکان کی وسعتوں کو ماپنے سے اہل ہو قرآن کریم کے جملہ معارف و حقائق کا احاطہ کر لینا ممکن نہیں۔ہاں ہر شخص اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس میں حصہ لے سکتا ہے اور دامن مراد کو مالا مال کر سکتا ہے۔راقم الحروف کا خیال ہے کہ کائنات میں جو کچھ وقوع میں آچکا ہے یا آئندہ وقوع میں آئے گا۔وہ سب کا سب قرآن میں بالترتیب موجود ہے لیکن انسان چونکہ غیب دان نہیں ہے۔اس لئے جب وہ قرآن کریم میں ایک مستقبل کے واقعہ سے پہلے ماضی کے ان واقعات کو جو مستقبل کے واقعہ کے لئے بطور علل و اسباب کے ہوتے ہیں پیوست پاتا ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کی ترتیب میں خلل آگیا۔لیکن اگر وہ ماقبل اور مابعد کی آیات یا سور میں تدبر کرے تو اس کا عقدہ خود قرآن کریم ہی سے حل ہو جاتا ہے۔قرآن کریم تقدیر عالم ہے اور اسی کے بیان کے مطابق مزاج عالم میں ہمیشہ تغییرات واقع ہوتے رہتے ہیں۔قرآن کریم ابتدائے آفرینش سے لے کر یوم آخرت تک کے جملہ تغیرات کو عموماً اور تغیرات نوع انسانی کو خصوصاً بالترتیب بیان فرماتا ہے اور اس رنگ میں بیان فرماتا ہے کہ ہر تغیر کے علل و اسباب اور اس کے نتائج بھی انسان کے سامنے آ جاتے ہیں اور اپنے دلائل کو ایسی پختہ صورت میں بیان فرماتا ہے کہ ہر زمانے کا انسان ان دلائل کے آگے بشرطیکہ اس کی فطرت مسخ نہ ہو چکی ہو۔سر جھکا لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔مثلاً احیائے موتی کے ثبوت میں وہ یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ جس طرح پانی کی بارش سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے اسی طرح مرے ہوئے دل کلام اللہ کی باران رحمت سے زندہ ہو جاتے ہیں اور پھر جب کوئی قوم کلام اللہ کی تربیت کے نتیجہ میں زندہ ہو جاتی ہے تو پھر قرآن کریم اس روحانی احیا کے واقعہ کو