معجزات القرآن

by Other Authors

Page 11 of 126

معجزات القرآن — Page 11

”“ ساتھ اگر چہ طالب علمی اور استاد کا رشتہ تو نہیں رہا لیکن مجھ سے تعلق بہت گہرا تھا۔وقف جدید میں اکثر آ کے بیٹھتے تھے اور قرآن کریم کے اوپر بھی بہت عبور تو کسی کو نہیں ہو سکتا مگر قرآنی مطالب کو سمجھنے کا شوق بہت تھا اور کئی دفعہ بڑے اچھے نکتے نکال کر لاتے تھے بہت ایک عجیب درویش انسان تھے۔66 19 ( بحوالہ روز نامہ الفضل 2 ستمبر 2004 صفحہ 4) سلسلہ احمدیہ کے جید بزرگوں کی بلند پایہ آرا ہیں جو کتاب ھذا میں دی جارہی ہیں۔ان میں حضرت خلیفتہ اسیح الرابع ” کا مکتوب بھی ہے جب آپ ناظم وقف جدید تھے۔مولانا موصوف کے اخلاق فاضلہ اور اوصاف و محاسن کے بیان کا یہ موقع نہیں۔موصوف صاحب رو یا کرامات بزرگ تھے محبت الہی ، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت قرآن آپ کے رگ وریشہ میں رچی ہوئی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آپ کے خلفا اور جماعت کے ساتھ سچی محبت تھی۔خلاصہ کلام یہ کہ آپ کا وجود عجز و انکسار اور علم و معرفت سے مزین تھا آپ نے 23 را پریل 1982ء میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔اپنی وفات سے قبل آپ کا کہا ہوا یہ شعر زائر کومحمودعا بنادیتا ہے: آئے مرے عزیز ہیں میرے مزار پر رحمت خدا کی مانگنے مشت غبار پر “ مکتوب نمبر 1 مکتوب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ مسیح الرابع ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تحمُدُهُ وَنُصِلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مرزا طاہر احمد۔ربوہ 12۔03۔1356/1977 مکرمی محتر می مولانا ظفر محمد صاحب احمد نگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 20 20 آں مکرم کے مرسلہ مسودہ بنام کا خاکسار نے گہری دلچسپی کے ساتھ بالاستیعاب مطالعہ کیا۔آپ نے قرآن کریم کی معجزانہ شان کے جس پہلو پر قلم اٹھایا ہے۔یہ علم قرآن کی ایک ایسی شاخ ہے جس پر آج تک بہت کم لکھا گیا ہے۔اس مسودہ کے مطالعہ سے یہ دیکھ کر طبیعت میں ہیجان پیدا ہو جاتا ہے کہ علوم قرآن کی کائنات میں اس پہلو سے بھی تحقیق اور دریافت کا کتنا بڑا جہان کھلا پڑا ہے۔اور اہل فکر کو جستجو کی دعوت دے رہا ہے اس مطالعہ سے مجھے بہت کچھ حاصل ہوا کئی نئے علمی نکات سے لطف اندوز ہوا۔تحقیق کی کئی نئی راہوں کی طرف توجہ مبذول ہوئی اور دل میں اس خیال سے شکر و امتنان کے جذبات پیدا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو آپ کے غلاموں کے حق میں قبول فرما رہا ہے۔اور علم و معرفت میں ترقی کے نئے نئے دروازے ان پر کھول رہا ہے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔