معجزات القرآن — Page 107
”“ 211 وقت تک متوجہ نہ ہوں گے اور اگر عذاب بھی انہیں متوجہ نہ کر سکا تو پھر سابقہ اقوام کی طرح ہلاک کر دیئے جائیں گے۔لہذا اس آیت کی روشنی میں أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ یعنی دنیا کے لوگ اس وقت تک اسلام کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔جب تک کہ یاجوج و ماجوج کی ہلاکت اُن کی آنکھیں نہ کھول دے۔اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کی تمام سورتیں زمانے کو اپنے کلمات کے مطابق چلا رہی ہیں اور وہ باوجود ہمہ گیر ہونے کے اپنے اندر کسی خاص زمانے کی خصوصیات کو بھی لئے ہوئے ہیں۔سورۃ انبیاء کا تعلق چودھویں صدی ہجری اور اس کے بعد کے زمانہ سے ہے۔آخری انجام اب اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیریں یا جوج و ماجوج کی تدبیروں کو خاک میں ملا کر اُن کو مٹانے پر تلی کھڑی ہیں۔یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قیامت نما زلزلے کے بعد دنیا کا مستقبل کیا ہوگا۔آیا دنیا خدا تعالیٰ کی منکر ہو جائے گی یا تین خدا مانے گی یا لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کی قائل ہو جائے گی ؟ سو اس بارے میں قرآن کریم اور احادیث میں بہت سی پیشگوئیاں موجود ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تو اور مغربی اقوام بھی جو تثلیث پرست ہیں لا إلهَ إِلَّا اللہ کی قائل ہو جائیں گی اور تثلیث پر تو حید غالب آجائے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق و مغرب میں مقام محمود حاصل ہو جائے گا اور یہ وہ حقیقت ہے جس کے ظاہر ہوکر رہنے کے نہ صرف قرآن و حدیث مدعی ہیں بلکہ بائبل میں بھی اس کی تصدیق میں متعدد حوالے پائے جاتے ہیں۔مکاشفہ یوحنا عارف کا بیشتر حصہ اسی حقیقت کے اظہار کیلئے وقف ہے لیکن اس وقت طوالت سے بچنے کیلئے صحف سماوی کے صرف چند حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دین اسلام “ 212 تمام ادیان پر غالب آجائے گا۔نیز یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ جس مبارک وجود کے ذریعے یہ انقلاب آئے گا وہ مبارک وجود اس زمانے میں پیدا ہو گا اور کہاں پیدا ہو گا۔چنانچہ دانیال نبی کی کتاب میں لکھا ہے کہ :۔پھر میں دانی ایل نے نظر کی اور تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص اور کھڑے تھے ایک دریا کے اس کنارہ پر اور دوسرا دریا کے اُس کنارہ پر اور ایک نے اُس شخص سے جو کہ کستانی لباس پہنے تھا اور دریا کے پانی پر کھڑا تھا پوچھا کہ ان عجائب کے انجام تک کتنی مدت ہے اور میں نے سنا کہ اس شخص نے جو کستانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اوپر کھڑا تھا۔دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کرحی القیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور اور نیم دور۔اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست و نابود کر چکیں گے تو یہ سب کچھ پورا ہو جائے گا۔اور میں نے سنا پر سمجھ نہ سکا۔تب میں نے کہا اے میرے خداوندان کا انجام کیا ہوگا ؟ اس نے کہا اے دانی ایل تو اپنی راہ لے کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بند وسر بمہر رہیں گی اور بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور صاف و براق ہوں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اُجاڑ نے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دوسونوے دن ہوں گے۔مبارک ہے وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔پر تو اپنی راہ لے جب تک کہ مدت پوری نہ ہو کیونکہ تو آرام کرے گا اور ایام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہو گا دانیال باب 12 آیات : 5 تا 13 )