معجزات القرآن

by Other Authors

Page 102 of 126

معجزات القرآن — Page 102

”“ 201 بن گیا ہو۔لہذا اگر ایسا ہوا ہو تو پھر تروس کے اعداد پورے چھ سو چھیاسٹھ ہیں۔اِس موقع پر یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ روس در اصل عربی زبان کا لفظ ہے جو راس يَرُوسُ روسا سے بنا ہے اور راس رؤسا کے معنی ہیں اكل اكلا كَثِيرًا یعنی بہت زیادہ کھایا اور مَشَى مُتَبَخْتِرًا اور پھر ناز سے چلنے لگا۔نیز راس السَّيْلُ کے معنے ہیں جَمعَ الغُشَاءَ وَحَمَلَہ۔یعنی سیلاب نے کوڑے کرکٹ کو جمع کر لیا اور پھر اُسے اُٹھا کر بہنے لگا۔سوان معنوں کے اعتبار سے روس آج اسم با مسٹمی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اُس نے اپنے ایک منکر اور جاحد کے کچھ ایسے نام رکھ چھوڑے کہ ہزاروں سالوں کے بعد اس کے اپنے نام ہی اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کی شہادت دینے لگے۔انجیل میں جس طاغوت کو حیوان کہا گیا ہے قرآن مجید اور حدیث میں اس کا نام دابۃ الارض رکھا گیا ہے۔دابتہ الارض کے لفظی معنی زمین کے جانور یا زمین کے کپڑے کے ہیں۔اس سے طاعون بھی مراد ہے اور یا جوج ماجوج بھی مراد ہیں۔کیونکہ دونوں کا کام اپنی جرح سے دوسرے کو مجروح کرنا ہے۔طاعون کا کیڑا بدنِ انسانی میں طعنہ زنی اور نیش زنی کرتا ہے اور یہ قومیں بدن کے علاوہ اپنے علم کلام اور فلسفیانہ جرح کے وار سے روح انسانی کو بھی مجروح کرتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيَتِنَا لا يُوقِنُونَ (نمل :83) یعنی جب لوگوں پر فرد جرم لگ جائے گا تو ہم اُن کو سزا دینے کے لئے زمین سے ایک دابۃ“ کو پیدا کردیں گے جو انہیں مجروح کرے گا۔کیونکہ ان لوگوں کو ہماری آیات پر یقین نہیں رہے گا۔اس آیت میں لفظ تکلّم دو معنی دیتا ہے ایک کلام کرنے کے اور دوسرے زخمی “ 66 202 کرنے کے۔اور یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔نیز اس آیت میں لفظ دابه “ اور لفظ تکلّم “ یا جوج ماجوج کی پالیسی اور طریق کار پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کیونکہ دابةُ کے اصل معنے ایسے جاندار کے ہیں جو دبے پاؤں چلے یا جس کے چلنے کی آہٹ محسوس نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں ریچھ کو ڈب کہتے ہیں کیونکہ جب وہ چلتا ہے تو اُس کے قدموں کی آہٹ نہیں محسوس ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ یوحنا عارف کواس جانور کے پاؤں ریچھ کے دکھائے گئے۔گویا مقصود یہ ہے کہ یا جوج ماجوج اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ایسی چالیں چلیں گے جسے عام لوگ محسوس نہ کر سکیں گے۔پھر ایسے ہی لفظ ” تُكلّم “ بھی ان کے طریق کار پر روشنی ڈالتا ہے۔یعنی پہلے تو یہ لوگ اپنی چرب زبانی اور سحر نگاری سے عوام کو قابو کریں گے اور اُن کا یہ ہتھیار اتنا کارگر ہوگا کہ اولاد آدم کا بیشتر حصہ اُن کے آگے سر تسلیم خم کر دے گا اور وہ اپنے دجل و فریب سے لاکھوں راست رو انسانوں کو کجر و بنا دیں گے انہیں گمراہ کر دیں گے۔اگر دیکھا جائے تو درحقیقت زبان کا ہتھیار آہن کے ہتھیار سے زیادہ مؤثر اور زیادہ کارگر ہے کیونکہ لوہے کا ہتھیار تو صرف بدن کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن زبان کے ہتھیار کا وار دل پر پڑتا ہے عالم اسلام کو زیادہ نقصان اسی فلسفہ نے پہنچایا ہے اور مسلمانوں کو اسلام سے دُور پھینک کر اسے مغرب کے نقش قدم پر چلا دیا ہے اور اس میں ایک ایسی روح بھر دی ہے کہ وہ مغربی تہذیب و تمدن اور مغربی فلسفہ کو اسلامی تہذیب و تمدن اور قرآنی معارف پر ترجیح دیتا ہے اور یہ ایک ایسا نقصان ہے کہ جس کی تلافی آہنی ہتھیاروں سے پہنچائے ہوئے نقصان سے زیادہ مشکل ہے۔سچ ہے: جراحَاتُ السَّنَانِ لَهَا الْتِقَامُ وَ لا يَلْتَامُ مَاجَرَحَ اللَّسَانُ یعنی نیزوں کے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم مشکل سے مندمل