معجزات القرآن — Page 101
”“ 199 اور ایک دوسرے کے ساتھیوں پر بھی حملہ کریں گے اور اُن کے حملے کا ہتھیار نہ صرف عام آلات جنگ ہوں گے بلکہ اُن کا فلسفہ اور پروپیگینڈا بھی اُن کا ہتھیار ہوگا۔اور یہ کہ دنیا دو حصوں میں منقسم ہوگی۔ایک حصہ شاہ شمال یعنی روس کے ساتھ ہوگا اور دوسرا اس کے حریف کے ساتھ جو اس کے مقابل شاہ جنوب ہوگا۔بخاری شریف میں بھی انہی دو بلاکوں کی باہمی جنگ و جدال کو اقتتال فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ“ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔یعنی یہ دونوں بلاک آخری زمانے میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوں گے اور انجیل میں ماجوج کو سمندر کا حیوان اور یاجوج کو زمین کا حیوان قرار دے کر اُن کے مقاصد اور طریق کار پر مندرجہ ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔” اور میں نے ایک حیوان کو سمندر میں سے نکلتے ہوئے دیکھا۔اس کی شکل تیندوے کی سی تھی اور پاؤں ریچھ کے سے بڑے بول بولنے اور کفر بکنے کیلئے اسے ایک منہ دیا گیا اور اسے بیالیس مہینے تک کام کرنے کا اختیار دیا گیا اور اس نے خدا کی نسبت کفر بکنے کیلئے منہ کھولا کہ اس کے نام اور اس کے خیمہ یعنی آسمان کے رہنے والوں کی نسبت کفر بکے۔اور اسے یہ اختیار دیا گیا کہ مقدسوں سے لڑےاور اُن پر غالب آئے اور اُسے ہر قبیلہ اور اُمت اور اہلِ زبان اور قوم پر اختیار دیا گیا۔اور زمین کے وہ سب رہنے والے جن کے نام اُس بڑہ کی کتاب حیات میں لکھے نہیں گئے جو بنای عالم کے وقت سے ذبح ہوا ہے اس حیوان کی پرستش کریں گے۔(مکاشفہ باب 13 آیت 1 تا8 ) اس حوالے میں ماجوج کا یعنی انگریزوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور خدا کی نسبت کفر بکنے سے مراد تثلیث کا عقیدہ اور یورپین فلسفہ ہے اور بیالیس ماہ سے مراد 1260 دن ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی شا یہ ستم کے اظہار نبوت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام “ 200 کی پیدائش تک پورے بارہ سو ساٹھ سال کا زمانہ ہے۔یعنی ہزار محمدی کے بعد یہ حیوان یا دابتہ الارض نکلنا شروع کرے گا اور دو سو سال کے عرصہ میں چھا جائے گا اور پھر مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ہوگی اور اس کے بعد اس حیوان کے تنزل اور زوال کے اسباب پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے اور بنائے عالم سے ذبح ہونے والے برہ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ہے اور کتاب حیات میں لکھے ہوئے ناموں سے مراد سچے مسلمان اور خلص مؤمن ہیں۔پھر یا جوج کے متعلق اسی مکاشفہ میں آیت 11 تا 18 میں لکھا ہے:۔09۔پھر میں نے ایک اور حیوان کو زمین میں سے نکلتے ہوئے دیکھا۔بڑے بڑے نشان دکھاتا تھا یہاں تک کہ آدمیوں کے سامنے آسمان سے زمین پر آگ نازل کر دیتا تھا۔اور اس نے سب چھوٹے بڑوں دولت مندوں اور غریبوں آزادوں اور غلاموں کے دہنے ہاتھ یا ان کے ماتھے پر ایک ایک چھاپ کرا دی تاکہ اس کے سوا جس پر نشان یعنی اس حیوان کا نام یا اس کے نام کا عدد ہو اور کوئی خرید و فروخت نہ کر سکے حکمت کا یہ موقع ہے جو سمجھ رکھتا ہے وہ اس حیوان کا عدد گن لے کیونکہ وہ آدمی کا عدد ہے اور اس کا عدد چھ سو چھیاسٹھ ہے۔اس حوالے میں زمین کے حیوان سے مراد دابتہ الارض ہے جس کا اولین مصداق روسی ہیں۔نیز اس حوالے سے یا جوج کے معنے پر بھی روشنی پڑتی ہے کیونکہ لفظ یا جوج کا مادہ آج یعنی آگ ہے اور روس آج جس رنگ میں آسمان سے زمین پر آگ نازل کر رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔اور اس کا عدد جو چھ سو چھیاسٹھ بتایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ مختلف زمانوں میں مختلف صورتوں میں تغیر و تبدل پاتا رہا ہے۔تورات میں اسی روس کو تیر اس کہا گیا ہے اور حدیث میں اسے تاریں کہا گیا ہے۔سو عجب نہیں کہ کسی زمانے میں اسے تروس بھی کہا گیا ہو اور اسی تروس سے یہ روس یا روش