معجزات القرآن

by Other Authors

Page 20 of 126

معجزات القرآن — Page 20

”“ تعارف کتاب 40 37 خاکسار نے قریباً پانچ چھ سال کی عمر میں خواب میں دیکھا کہ قرآن پاک اول سے آخر تک میرے دل کے آئینے میں اس طرح چمک رہا ہے کہ بیک وقت اس کا ہر لفظ میری نگاہوں کے سامنے ہے، یہ بشارت ظاہر ہے کہ میرے کسی عمل کی جزا یا صلہ بی تھی بلکہ محض فیضان رحمانیت تھا کہ جس سے مجھے نوازا گیا ورنہ من آنم کہ من دانم البتہ اتنا میں سمجھتا ہوں کہ یہ مبارک خواب میرے والد بزرگوار حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔میرے والد بزرگوار ایک دعا گو بزرگ تھے۔قرآن شریف کے حافظ ہونے کے علاوہ عربی اور فارسی میں بھی انہیں کافی دسترس تھی۔مثنوی رومی سے انہیں بے حد دلچسپی تھی بعض سفید ریش پٹھان اور بلوچ آپ سے با قاعدہ مثنوی رومی کا درس لیتے تھے۔یہ بوڑھے طالب علم ایک حلقہ بنا کر مسجد میں بیٹھتے تھے اور پھر سب مل کر مثنوی رومی کے چند اشعار ایک ایسی دلکش ئے سے پڑھتے تھے کہ سننے والے جھوم اُٹھتے تھے۔آپ ایک صاحب الہام بزرگ تھے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میری آنکھیں عموماً خراب رہتی تھیں اور والد صاحب کو یہ فکر رہتا تھا کہ کہیں میں تعلیم سے محروم نہ رہ جاؤں۔اس لئے آپ عموماً میرے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔آخر ایک دن مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا ” مبارک ہو تم پڑھ جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ تمہاری آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی۔حضرت والد صاحب نے میرا خواب تو سنا ہی ہوا تھا اس لئے آپ نے مجھے جبکہ میں قریباً 13 سال کا تھا مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل کرا دیا۔خاکسار نے 1929ء “ 38 میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور اس طرح قرآن شریف کے معانی اور مطالب کو سمجھنے کی استعداد پیدا ہوگئی۔قرآن شریف کے حروف مقطعات میرے لئے ہمیشہ معمہ بنے رہے۔متواتر تدبر کرتا رہا۔ایک طویل جد و جہد کے بعد آخر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس ناچیز پر یہ حقیقت منکشف فرما دی که حروف مقطعات کا ماخذ سورۃ فاتحہ ہے اور سورۃ فاتحہ ہمارے فاتح نبی حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صورت ہے۔اور یہ کہ امت محمدیہ کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ظل محدود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر نبوت کے 23 سال کے مقابل امتِ محمدیہ کی عمر بحساب شمسی نیکس صد سال ہے اور قمری حساب کے مطابق امت محمدیہ کی عمر بعد از وصال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 2363 سال ہے اور بعد از ہجرت 2373 سال ہے اور یہ کہ قرآن شریف کی ترتیب زمانی کی بنیاد بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر ہے یعنی جس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے چار دور ہیں۔اسی طرح قرآن شریف کی ترتیب بھی چار حصوں میں منقسم ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا پہلا حصہ وہ ہے جو نبوت سے ماقبل کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور یہ دور چالیس سالہ ہے اور یہ 40 کا عدد حرف ”م“ کا عدد ہے۔دوسرا دور مکہ میں نبوی زندگی کا ہے۔یہ دور تیرہ سالہ ہے۔لفظ احمد میں سے جب حرف ’م خارج ہو جائے تو باقی حروف بصورت اُحد باقی رہ جاتے ہیں جن کے اعداد تیرہ ہیں اور یہ حضور کی مکی نبوی زندگی کا زمانہ ہے۔گویا حضور نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو حضور کی عمر مبارک 53 سال تھی اور یہ لفظ احمد کے اعداد ہیں۔تیسرا دور عبوری ہے یعنی مکہ سے مدینہ کی طرف منتقل ہونے کا دور۔اس دور کی علامت غار ثور کی تین تاریک راتیں ہیں اور یہ تین راتیں حضور کی زندگی کے اُن مصائب کے مشابہ ہیں جو دسویں سن نبوت میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ