مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 28 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 28

28 مطابق اسے گونگا شیطان“ قرار دیتا ہے۔چہ جائیکہ اس کو مدعی مفقود اور گواہ موجود کا مصداق بناتے ہوئے مضحکہ خیز طور پر مجدد قرار دیا جائے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے کہ ہر ایک صدی پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے۔اب ہمارے علماء کہ جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں انصاف سے بتلا دیں کہ کس نے اس صدی کے سر پر خدا سے الہام پا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہورہی ہے مگر حدیث کا تو یہ منشاء ہے کہ وہ مجد دخدا تعالی کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ ۵۲ پس چودھویں صدی کے مجدد کیلئے دعوئی ناگزیر تھا۔جیسا کہ حضور مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:- اس آخری خلیفہ کیلئے یہ ضروری تھا کہ آخری حصہ ہزار ششم میں آدم کی طرح پیدا ہو اور سن چالیس میں آنحضرت ﷺ کی طرح مبعوث ہو اور نیز صدی کا سر ہو اور یہ تین شرطیں ایسی ہیں کہ اس میں کا ذب اور مفتری کا دخل غیر ممکن ہے۔مَنْ يُجَدِّدُ ۵۳ حدیث مجددین میں مَنْ يُجَدِّدُ کا لفظ ہے جو جمع پر بولا جاتا ہے۔اس لیے ایک صدی میں ایک سے زائد مجد دین نہیں آسکتے بلکہ آتے رہیں ہیں۔بہر حال کوئی بھی صدی مجدد کے وجود سے خالی نہیں ہے۔اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں:- مجد دین کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک ہی مسجد دساری دنیا کیلئے مبعوث ہوتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک میں اور ہر علاقہ میں اللہ تعالیٰ مجدد پیدا کیا کرتا ہے۔مگر لوگ قومی یا ملکی لحاظ سے اسے اپنی قوم اور ملک کے مسجد دکو ہی ساری دنیا کا مجد دسمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ جب اسلام ساری دنیا کیلئے ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں اور مختلف ملکوں میں مختلف مسجد دین کھڑے ہوں۔( مختلف ممالک کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں ) ان ممالک کی تاریخ دیکھی جائے تو