مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 23
23 آئے گا خواہ صدی کے شروع میں یا درمیان میں یا آخر پر آئے۔اور علامہ جلال الدین سیوطی حدیث مجد دین کی تشریح میں کہتے ہیں :- الحمدلله الذي بعث اى ارسل على رأس اى اوّل و على كل مائة سنه من المولد النبوى او البعثه او الهجرة من اى مجتهدًا واحد او متعددا“۔۲ تمام تعریف اس ذات کیلئے ہے جس نے مبعوث کیا یعنی بھیجا صدی کے سر پر یعنی شروع میں اور ہر صدی سے مراد حضور کی پیدائش تا بعثت یا ہجرت کے بعد سو سال مراد ہیں اور منُ کا مطلب ہے کہ ایک یا کئی مجتہد آئیں گے۔کیا ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا ضروری ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں:۔یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے۔بعض لوگ اس بات کو سن کر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے تو پھر تیرہ صدیوں کے مجددوں کے نام 66 بتاؤ۔میں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ ان مجددوں کے نام بتانا میرا کام نہیں۔یہ سوال آنحضرت ﷺ سے کرو جنہوں نے فرمایا کہ ہر صدی پر مجدد آنا ہے۔۴۳ لیکن جیسا کہ ظاہر ہے یہ جواب مسلمانوں کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہے۔اگر کوئی غیر مسلم یہ سوال کرے تو اس کیلئے دوسرا جواب پیش کرنا ہوگا۔چنانچہ اس حدیث کا دوسرا جواب حضرت اقدس نے اس طرح پیش فرمایا:- میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ حدیث جھوٹی نہیں ہے صحیح ہے۔یہ عام طور پر مشہور ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے۔نواب صدیق حسن خانصاحب وغیرہ نے ۱۳ مجدد گن کر بھی دکھائے ہیں مگر میں ان کی ضرورت نہیں سمجھتا۔اس حدیث کی صحت کا یہ معیار نہیں بلکہ قرآن اس کی صحت کا گواہ ہے۔یہ حدیث انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون کی شرح ہے۔۴۴