مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 6 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 6

ہوئی اور ان خلفاء کے ذریعے ہوئی جن کا سورہ نور میں وعدہ تھا۔اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" وکذالک قال فى اية اخرى لقوم يستر شدون انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون فامعنوا فيه ان كنتم تفكرون فهذه اشارة الى بعث مجدد في زمان مفسد كما يعلمه العاقلون - اسی طرح دوسری آیت میں ہدایت طلب کرنے والی قوم کو فرمایا انا نحن۔۔۔لحفظون۔اگر تم سوچ سکتے ہو تو غور کرو کہ اس میں ایک فساد کے زمانہ میں ایک مجدد بھیجنے کی طرف اشارہ ہے۔جیسا کہ عقلمند لوگ جانتے ہیں“۔حفاظت قرآن کس طرح ہوگی۔اس کی تشریح خدا نے اس آیت میں کی ہے۔انا انزلنا التوراة فيها هدى و نور يحكم بها النبيون الذين اسلمو للذين هادو والربانيون والاحبار بما استحفظوا من كتاب الله و كانوا عليه شهداء۔۔۔۔۔۔كام ترجمہ: بیشک ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو ( خدا کے ) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے۔۔یہاں تین قسم کے افراد کے ذریعے توراۃ کی حفاظت کا ذکر ہے۔ا۔نبی ۲۔ربانی علماء ۳۔احبار اور ربانی علماء سے مراد خلفاء ومجد ڈین ہیں اور چونکہ سورہ نور میں یہ وعدہ تھا کہ امت محمدیہ میں بھی بنی اسرائیل کی مانند خلیفے آئیں گے جو کتاب اللہ کی حفاظت اور دین کی تمکنت کریں گے۔پس ثابت ہوا کہ امت محمدیہ میں بھی سلسلہ مجد ڈین جاری ہوگا۔فھو المراد اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی امت محمدیہ کو پیش آمدہ فتنوں کے مقابل پر مجد دین کے آنے کی اطلاع دی ہے۔چنانچہ جامع ترمذی میں حدیث ہے :- صلى الله عن ثوبان قال قال رسول الله عليه انما اخاف على امتى الائمة المضلين قال قال رسول الله الله لا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خذلهم حتی یاتی امرالله ۱۸ حضرت ثوبان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی امت کیلئے گمراہ کرنے