مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 348 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 348

348 ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کی تعلیم ہر فطرت کو تسلی دینے والی اور ضرورت حقہ کو پوری کرنے والی ہے۔اگر خالی اچھی تعلیم کسی مذہب کی صداقت کا ثبوت سمجھی جائے تو بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کہہ دے کہ میں ایک جدید مذہب لایا ہوں اور میری تعلیم یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولو ظلم نہ کرو، غداری نہ کرو۔اب یہ تعلیم تو یقیناً اچھی ہے لیکن ہر ضرورت کو پورا کرنے والی نہیں اور اس وجہ سے باوجود اچھی ہونے کے مذہب کی صداقت کا ثبوت نہیں ہو سکتی۔مذاہب موجودہ میں سے مسیحیت کی مثال لی جاسکتی ہے۔مسیحیوں کے نزدیک مسیح کا سب سے بڑا کارنامہ اس کی وہ تعلیم ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اگر تیرے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کے آگے پھیر دے۔اب بظاہر یہ تعلیم بڑی خوبصورت نظر آتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو فطرت صحیحہ کے مخالف ہے۔کیونکہ فطرت نیکی کا قیام چاہتی ہے اور اس تعلیم سے بدی بڑھتی ہے۔اسی طرح ہر ضرورت کو بھی یہ نہیں پورا کرتی۔کیونکہ انسان کو دشمن کا مقابلہ کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے اور اس ضرورت کا اس میں کوئی علاج نہیں۔اس اصل کے ماتحت بھی دشمنان اسلام کو ایک بہت بڑی شکست نصیب ہوئی اور اسلام کو بہت سے میدانوں میں غلبہ حاصل ہوا۔(4) چوتھا کام اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کیلئے آپ نے یہ کیا کہ سکھ جو ہندوستان کی پر جوش اور کام کرنے والی قوم ہے اسے اسلام کے قریب کر دیا۔آپ نے تاریخ سے اور سکھوں کی مذہبی کتب سے ثابت کر کے دکھا دیا کہ باوانا نک علیہ الرحمۃ سکھ مذہب کے بانی در حقیقت مسلمان تھے اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے اور حج کو بھی گئے تھے اور مسلمان پیروں سے عموماً اور با وافرید علیہ الرحمۃ سے خصوصاً بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔یہ تحقیق ایسی زبر دست اور یقینی ہے کہ مذہبی طور پر اس نے سکھوں کے دلوں میں بہت ہیجان پیدا کر دیا اور اگر مسلمان اس تحقیق کی عظمت کو سمجھ کر آپ کا ہاتھ بٹاتے تو لاکھوں سکھ اس وقت تک مسلمان ہو جاتے۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے الٹی مخالفت کی اور اس کے عظیم الشان اثرات کے راستہ میں روکیں ڈالیں۔مگر پھر بھی تسلی سے کہا جاسکتا ہے کہ ایک طبقہ کے اندر اس تحقیق کا گہرا اثر نمایاں ہے اور جلد یابدیر یہ تحریک عظیم الشان نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔(5) پانچواں کام آپ نے اسلام کی ترقی کیلئے یہ کیا کہ عربی زبان کا ام الالسنہ ہونا ثابت