مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 349 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 349

349 کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو عربی زبان سیکھنی چاہیے۔مسلمانوں نے ابھی تک اس بات کی عظمت کو سمجھا نہیں۔بلکہ ابھی تک وہ اس کے برخلاف عربی کو مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تجویز میں مسلمانوں کے اتحاد کامل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔امید ہے کہ کچھ عرصہ تک خود بخود اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس کی مذہبی اہمیت کے ساتھ اس کی سیاسی اور تمدنی عظمت کو بھی محسوس کریں گے۔(6) چھٹا کام اسلام کی ترقی کیلئے آپ نے یہ کیا کہ ایک عظیم الشان ذخیرہ اسلام کے تائیدی دلائل کا جمع کر دیا اور آپ کی کتب کی مدد سے اب ہر مذہب اور ہر ملت کے لوگوں کا اور علوم جدیدہ کے غلط استعمال سے جو مفاسد پیدا ہوتے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر طرح کی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔(7) ساتواں کام آپ نے یہ کیا کہ امید جو مسلمانوں کے دلوں سے بالکل مفقود ہوگئی تھی اسے پھر پیدا کر دیا۔آپ کے ظہور سے پہلے مسلمان بالکل ناامید ہو چکے تھے اور سمجھے بیٹھے تھے کہ اسلام دب گیا۔آپ نے آکر بہ زور اعلان کیا کہ اسلام کو میرے ذریعہ ترقی ہوگی اور اسلام پہلے دلائل کے ذریعہ دنیا پر غالب ہوگا اور آخر تبلیغ کے ذریعہ سے طاقتور قومیں اس میں شامل ہو کر اس کی سیاسی طاقت کو بڑھا دیں گی۔اس طرح آپ نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو باندھا۔جھکی کمر کو سہارا دیا۔بیٹھے ہوئے حوصلوں کو کھڑا کیا اور مردہ امنگوں کو زندہ کیا اور اس میں کیا شک ہے کہ جب امید اور زبر دست امید پیدا ہو جائے تو سب کچھ کر لیتی ہے۔امید ہی سے قربانی وایثار پیدا ہوتے ہیں اور چونکہ مسلمانوں میں امید نہ تھی ، قربانی بھی نہ رہی تھی۔احمدیوں میں امید ہے، اس لیے قربانی بھی ہے۔پھر قربانی بھی مرنے مارنے کی قربانی نہیں بلکہ سامان بقا کو پورا کرنے والی قربانی۔جس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہر ذرہ کو اس طرح ملایا جائے کہ اس سے ترقی کے سامان پیدا ہوں۔امن عامہ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کام یہ کیا کہ آپ نے امن عامہ کو قائم کیا ہے۔اس غرض