مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 255 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 255

255 بہت پسند کرتی تھی۔اور اس وقت سے آپ سنتن بوننگ کے نام سے مشہور ہوئے۔ان کا تبلیغ کا علاقہ لاسم، رممبانگ، سیمپاڈن ، تو بان مشرقی جاوا تھے اور 1525 مسیحی میں وفات پائی۔(۵) سنن کالی جاگہ: یہ رنگا ولو کمانڈر ما جاپاہت کی نسل سے ہیں۔جو کہ تیمی گنگ والا تکتاک یا راڈین سھور کے لڑکے تھے۔آڈی پاتی تو بان اس وقت حاکم تھا۔آپ کا اصلی نام راڈین سعید ہے۔یہ ایک ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے اسلام کی خوبیوں کو لوکل عادات اور روایات میں داخل کیا۔جنہوں نے لوکل عادات کو تبدیل نہ کیا اور نہ ہی جاوا کی تہذیب کو تبدیل کیا جن پر ہندو اور بدھ مذہب کی تعلیمات کا اثر تھا۔لیکن انہوں نے اس اثر کو آہستہ آہستہ اسلام کی تعلیمات سے تبدیل کیا۔جیسے تہلیلن یا جس کو جاوا کی زبان میں سلامتن کہتے ہیں۔یہ ایک ایسا پروگرام تھا جس میں بہت سے لوگ حاضر ہوتے۔یہ پروگرام ایک مذہبی عالم کی رہنمائی میں ہوتا جو کہ ایسے تعویذ ، جادو وغیرہ پڑھتا کہ بری روح کو نکالا جائے اور اس پروگرام میں قسم قسم کے کھانے اور پینے کی چیزیں دی جاتیں ان بری روحوں کیلئے۔اور جو لوگ حاضر ہوتے تھے ان کو کھانے کی اجازت نہ ہوتی۔سنتن کالی جاگہ مندرجہ بالا پروگرام کے تعویذ و جادو کی جگہ قرآن کریم کی آیات پڑھتے اور آنحضرت ﷺ کے متعلق نعتیہ اشعار پڑھتے اور جو لوگ حاضر ہوتے ان کو حکم دیتے کہ مذکورہ کھانے پینے کی چیزیں کھاؤ اور پیو۔جب ڈیمک مسجد کا افتتاح ہوا تو آپ نے یہ تجویز پیش کی کہ افتتاح میں ایک ڈرامہ منعقد کیا جائے۔جس کی بناوٹ ایک انسانی شکل میں ہو جو کہ ایک حیوان کے چمڑے پر بنائی جائے۔مگرستن گیری نے آپ کی تجویز کا انکار کر دیا۔کیونکہ اس قسم کے ڈرامہ کی شریعت سے تائید نہ ہوتی تھی۔لیکن ستن کالی جاگہ نے اس نقش کو تبدیل کر دیا اور ایک ایسی تصویر میں تبدیل کیا جو انسانی شکل میں نہ تھی یا کسی اور مخلوق کے مشابہ نہ تھی۔اس لیے تمام اولیاء نے مسجد ڈیمک کے افتتاح کی اجازت دے دی۔ایک ایسے ڈرامہ کے ساتھ جس میں روایتی کھیل کو ظاہر کیا گیا اور کلمہ شہادت کا ٹکٹ بطور داخلہ کے قرار دیا گیا جو اُس افتتاح کو دیکھنا چاہتے تھے۔سنن آمپل بستن گیری اور سنتن دراجات نے پرانی عادات اور روایات کی نرمی سے مخالفت کی۔کیونکہ یہ خطرہ محسوس کیا گیا کہ اگر آہستہ آہستہ یہ عادات اور روایات کے متعلق خیال کیا جائے گا کہ یہ اسلام کی اصل تعلیمات ہیں اور اگر مندرجہ امور کو برداشت کیا گیا تو وہ آئندہ بدعت میں شمار ہوں گی۔