مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 56 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 56

56 56 اصول، استنباط واستدلال فقہ کے موازین بن گئے۔بحث و مباحثے کے موضوع یہ تھے کہ سنت حجت ہے یا نہیں۔کس طرح کی احادیث واجب الاخذ ہیں۔کیا حدیث متصل کے ساتھ حدیث مرسل بھی قابل قبول ہے یا نہیں۔سنت صرف قرآن کریم کی تبیین کا کام کرتی ہے یا یہ احکام قرآن پر زیادتی بھی کر سکتی ہے۔سنت قرآنی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے یا نہیں۔نسخ پر مناظرہ کا بازارگرم تھا۔ایسے حالات میں امام صاحب ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں اپنے افکار اور فقہی مذہب لے کر میدان میں اترے۔21 امام شافعی کی یگانہ روزگار شخصیت آپ کی شخصیت کا بیان اس لئے ضروری ہے کہ اس زمانے کے حالات و واقعات کا گہر اثر آپ کی شخصیت میں تھا۔حالات و واقعات کے باعث آپ کی شخصیت ایک خاص رنگ میں ڈھل چکی تھی جس میں ایک مجددانہ شان تھی۔آپ یگانہ روزگار تھے۔بیک وقت مجہتد، مفسر، محدث ، فقیہ ، متکلم، ادیب، ماہر لغت نحو و بلاغت کے امام گویا جامع العلوم تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ہم تو تفرقہ نہیں ڈالتے بلکہ ہم تفرقہ دور کرنے کے واسطے آئے ہیں۔اگر احمدی نام رکھنے میں بہتک ہے تو پھر شافعی، حنبلی کہلانے میں بھی ہتک ہے۔مگر یہ نام ان اکابر کے رکھے ہوئے ہیں جن کو آپ بھی صلحاء مانتے ہیں۔وہ شخص بد بخت ہوگا جو ایسے لوگوں پر اعتراض کرے اور ان کو برا کہے۔صرف امتیاز کیلئے ان لوگوں نے اپنے یہ نام رکھے تھے۔ہمارا کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ہم پر اعتراض کرنے والا خدا تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے۔ہم مسلمان ہیں اور احمدی ایک امتیازی نام ہے۔اگر صرف مسلمان نام ہو تو شناخت کا تمغہ کیونکر ظاہر ہو۔خدا تعالیٰ ایک جماعت بنانا چاہتا ہے اور اس کا دوسروں سے امتیاز ہونا ضروری ہے۔بغیر امتیاز کے اس کے فوائد مرتب نہیں ہوتے اور صرف مسلمان کہلانے سے تمیز نہیں ہو سکتی۔امام شافعی اور حنبل کا زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس وقت بدعات شروع ہوگئی تھیں۔اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہل حق اور ناحق میں تمیز نہ ہوسکتی، ہزار ہا گندے آدمی ملے جلے رہتے۔یہ چار نام اسلام کے واسطے مثل چار دیواری کے تھے۔اگر یہ لوگ پیدا نہ ہوتے تو اسلام ایسا مشتبہ مذہب ہو جاتا کہ بدعتی اور غیر بدعتی میں تمیز نہ ہوسکتی ہے