مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 20 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 20

20 مذہب زندہ نہیں رہ سکتا کیونکہ زندگی کے تقاضے ہر وقت جواں ہیں، مادیت کا درخت سدا بہار ہے۔نفس پرستی کی تحریک اور اس کے مذہب کو حقیقتاً کسی تجدید کی ضرورت نہیں کہ اس کی ترغیبات اور اس کے محرکات قدم قدم پر موجود ہیں پھر بھی اس کی تاریخ اس کے پر جوش داعیوں اور کامیاب مجددوں سے کبھی خالی نہیں رہی اور حدیث رسول کے مطابق ایسے آئمہ مضلین“ سے پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اس کی جوانی کو قائم رکھا اور اس کی دعوت کو ہر دور میں پھیلاتے رہے اور یہ کہتے رہے گرچہ پیر ہے مومن، جواں ہے لات ومنات جب حدیث رسول کا پہلا حصہ پورا ہو گیا تو لازماً دوسرا حصہ یعنی بعثت مجد دین کے وعدے کا ایفاء بھی ضروری تھا۔اس مادیت کا مقابلہ جب تک نئی زندگی اور روح کے ساتھ نہ کیا جاتا تو مادیت کی ہما ہمی میں حق کا بچنا بلکہ مادیت پر غلبہ پانا مشکل تھا لیکن خدا نے رحم فرماتے ہوئے سلسلہ مجددین جاری فرمایا اور اسلام میں تاریخ دعوت و عزیمت اتنی ہی طویل ہے جتنی اسلام کی زندگی۔جب بھی امت محمدیہ کو کسی فتنے نے گھیرا اور ایک مرد مومن کی ضرورت محسوس ہوئی تو خدا نے اس کا خاطر خواہ انتظام کر دیا۔قدریت ، جہمیت ، اعتزال خلق قرآن، وحدۃ الوجود اور دین الہی ایسے بے شمارفتن بپا ہوئے مگر اسلام کے حقیقی علمبرداروں نے خم ٹھونک کر ان کا مقابلہ کیا اور ہر فتنے کے مقابلے میں قرآن وسنت کی افضلیت ثابت کی۔ہمارے موجودہ دور میں بھی ہر صدی کے سر پر جب اسلام اندرونی و بیرونی حملوں کی آماجگاہ بن گیا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر ایک دفعہ پھر اپنے وعدہ کوسچا ثابت کر دکھایا۔مجدد کی جاری و ساری نعمت کا ذکر کرتے ہوئے آیت کریمہ لقـد انـزلـنـا آیات مبینت کی تشریح میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے فرمایا :- ” پر اسلام میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو لقد انزلنا آیات مبینت کے ذریعہ اسلام کی روشنی کو ظاہر کرتے رہے۔چنانچہ ابتدائی زمانہ میں حضرت جنید بغدادیؒ ہوئے، رو حضرت سید عبدالقادر جیلائی ہوئے ،شبلی ہوئے، ابراہیم ادھم ہوئے ، ابن تیمیہ ہوئے، ابن قیم ہوئے ، امام غزائی ہوئے ، حضرت محی الدین ابن عربی ہوئے اور ان کے علاوہ ہزاروں اور بزرگ ہوئے۔پھر آخری زمانہ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث ہوئے ، شیخ شہاب الدین صاحب سہروردی ہوئے ، خواجہ بہاؤ الدین صاحب نقشبندی ہوئے، نظام الدین صاحب اولیاء ہوئے ، خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی ہوئے،