مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 10 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 10

10 ” ہے“ کی مستحکم چٹان سے ”ہونا چاہئے“ کی پر خطر وادیوں میں چلا جاتا ہے۔اس لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جن کے ہاتھ پر نشانات ظاہر ہوں۔۔ظاہری اصلاح تو ہر کوئی کر سکتا ہے لیکن یہ کمل مفید نہیں ہوتی کیونکہ روحانی امور میں اصلاح وہی کر سکتا ہے جو خدا کی طرف سے ہوا اور مرد کامل ہو۔ہے۔ے۔آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ مجد ڈین آئیں گے خود اس ضرورت کو ثابت کر رہا ہے۔گزشتہ صدیوں میں ایسے وجودوں کا آنا بھی اس اہم کام کی ضرورت کو عملاً ثابت کر رہا دوران صدی جو فتنے پیدا کئے جاتے ہیں اسلام کا چہرہ گرد و غبار میں چھپ جاتا ہے تو اس کونئی شان اور خوبصورتی عطا کرنے کیلئے مجددین کا آنا ضروری ہے۔اسی پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کیلئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔نہ معلوم کہ بیچارے معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجدد اور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین میں کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے کیلئے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ضرورت ہی کیا ہے صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ معترض کو اپنے دین کی پرواہ نہیں اور کبھی اس نے غور نہیں کیا کہ اسلام کیا چیز ہے اور اسلام کی ترقی کس کو کہتے ہیں اور حقیقی ترقی کیونکر اور کن راہوں سے ہوسکتی ہے اور کس حالت میں کس کو کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر مسلمان ہے۔یہی وجہ ہے کہ معترض صاحب اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ قرآن موجود ہے اور علماء موجود ہیں اور خود بخو دا اکثر لوگوں کے دلوں میں اسلام کی طرف حرکت ہے پھر کسی مجدد کی کیا ضرورت ہے۔لیکن افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش