مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 192
192 ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور خود اس کے زمانہ سے پیشتر ہونے پر افسوس کیا ہے اور لکھا ہے یا اسفا على لقائه۔اتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- حضرت مجددالف ثانی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ ستارہ دنباله یعنی ذوالسنین مہدی معہود کے ظہور کے وقت میں نمودار ہوگا۔چنانچہ وہ ستارہ 1882ء میں نکلا اور انگریزی اخباروں نے اس کی نسبت یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہی وہ ستارہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا۔۴۲ ایک اور پیشگوئی فرمایا: ”مجددالف ثانی صاحب بھی یہی لکھتے ہیں کہ مہدی معہود جب ظاہر ہوگا تو اس کو لوگ کافر کہیں گے اور اس کو ترک کر دیں گے اور قریب ہوگا کہ علماء اسلام اس کو قتل کردیں۔ایک پیشگوئی جو حرف بحرف پوری ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- حضرت مجددالف صاحب سرہندی نے بھی اپنی کتاب مکتوبات کے صفحہ 107 میں لکھا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو علماء وقت بھی اس کو اہل الرائے کہیں گے۔یعنی یہ خیال کریں گے کہ یہ حدیثوں کو چھوڑتا ہے اور صرف قرآن پر کار بند ہے اور اس کی مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے“۔اس صدی کے ایک اور مجد داور نگ زیب عالمگیر بھی تھے۔اور نگ زیب عالمگیر کا تذکرہ محی الدین حضرت اور نگ زیب عالمگیر 4 نومبر 1618ء کو پیدا ہوئے اور 21 فروری 1707ء کو انتقال کیا۔آپ سلاطین ہند میں ایک باخدا بزرگ تھے۔جنہوں نے قرآن مجید لکھ کر اورٹو پیاں سی سی