مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 63 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 63

63 مسلک فور ابدل دیتے اور فرمایا کرتے تھے قول وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کا قول ہے اور میرا قول بھی وہی ہے۔بار بار یہی الفاظ دہراتے رہے۔۲۳ معجم یا قوت میں ربیع بن سلیمان کی روایت ہے ایک شخص شافعی سے ایک مسئلہ دریافت کر رہا تھا اثنائے گفتگو اس نے کہا نبی کریم علیہ سے تو ایسا مروی ہے اور اے ابو عبد اللہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔یہ سنتے ہی شافعی کا پنپنے لگے ان کا رنگ زرد پڑ گیا۔حالت متغیر ہوگئی۔انہوں نے کہا ”کون سی زمین مجھے پناہ دے گی اور کون سا آسمان مجھے اپنے زیر سایہ رکھے گا۔اگر میرے سامنے رسول اللہ کی کوئی حدیث بیان کی جائے اور میں یہ نہ کہوں ہاں، بے شک ، به سر و چشم “۔۲۳ اصلاح علوم حدیث ا۔امام شافعی کے وقت راوی یوں کہتے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم یوں کرتے تھے یا اس وقت یہ سنت تھی۔تو اس کو بھی حدیث رسول میں شمار کیا جاتا تھا۔امام صاحب نے اس کی مخالفت کی کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سنت صحابہ ہو یا مکن ہے کہ یہ جاہلیت کا رواج ہو اور اصل سنت رسول اس کے برعکس ہو۔اس لیے اس کا مقام قول و فعل رسول کے مترادف نہیں ہوسکتا۔ابوبکر میر نی، ابوبکر رازی اور ابن حزم ظاہری نے آپ کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔۲۵ ۲۔مقطوع و موقوف احادیث کے بارے میں آپ نے فرمایا یہ بے اعتبار اور نا قابل عمل ہیں۔حنفی صحابی یا تابعی کے قول کے مقابلے میں حدیث رسول کو ترک کر دیتے تھے۔امام شافعی نے اس کی مخالفت کی۔مرسل کے بارے میں آپ نے جمہور سے ہٹ کر یہ رائے دی کہ ایسی احادیث پر اعتقاد عمل کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ہوسکتا ہے کہ وہ صرف تابعی کا ہی قول ہو۔آپ کی یہ رائے بہت مقبول ہوئی اور حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے ” وكم من مرسل لا اصل له وكم من مرسل يخالف مسندا کتنی ہی مرسل ایسی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں اور کتنی ہی مرسلات ہیں جو مسند احادیث کے خلاف ہیں۔اور اسی طرح امام بخاری و مسلم بلکہ جملہ محد ثین نے امام شافعی کے اس اصول کو اپنا مقتدا قرار دیا اور اب یہ ایک مسلّم اصول بن گیا ہے کہ حدیث مرسل نا قابل اعتبار ہے۔