مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 57 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 57

57 خداداد صلاحیتوں کے مالک حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا:- لکھا ہے کہ امام مالک درس دیا کرتے تھے ان کے درس میں امام شافعی صاحب آگئے۔امام مالک مدینہ میں رہتے تھے اور یہ مکہ سے گئے تھے۔ان کی عمر بھی چھوٹی تھی یعنی تیرہ سال کی تھی۔جب وہ تین دن ان کے درس میں بیٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس کاپی اور قلم دوات نہیں۔تو امام مالک نے انہیں کہالڑ کے تو کیوں یہاں بیٹھا کرتا ہے؟ امام مالک کو برا معلوم ہوا کہ جب درس میں آتا ہے تو لکھتا کیوں نہیں؟ امام شافعی کو خدا نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ جو بات سنتے یاد ہو جاتی۔انہوں نے کہا پڑھنے کیلئے آیا ہوں۔امام مالک نے کہا پھر لکھتا کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ سنتا ہوں یاد ہو جاتا ہے۔امام مالک نے کہا اچھا جو کچھ میں نے پڑھایا ہے سناؤ۔انہوں نے سنا دیا۔امام مالک کے دوسرے شاگرد کہتے ہیں کہ ہماری کاپیوں میں غلطیاں نکلیں مگر انہوں نے صحیح صحیح سنا دیا۔عباسی عصر میں آپ کا فاضلانہ مقام آپ عباسی عصر میں پیدا ہوئے ، اسی میں انہوں نے زندگی بسر کی۔زندگی کی ساری سرگرمیاں اسی دور میں بسر ہوئیں۔یہ زمانہ دولت عباسیہ کے استقرار کا زمانہ تھا۔اس کی سطوت و شوکت کا عہد تھا۔یہ عصر متعدد اعتبارات سے امتیازات کا حامل تھا۔احیاء علوم پر اس کی اثر اندازی سے انکار کی گنجائش نہیں۔یہی عہد ہے جب علمائے اسلام فلسفہ یونان، ادب فارس اور علوم ہند سے روشناس ہورہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے امام صاحب کو وقت کے تقاضوں کے مطابق علوم سے مالا مال کر دیا۔آپ کو مواہب کا وہ وافر حصہ ملا تھا جس سے انہیں فکر کا منصب قیادت ملا اور وہ رائے کے کاروان کے سالار ٹھہرے۔امام شافعی کی شخصیت قومی المدارک تھی۔ان کے قوائے عقلی و پہنی ہر اعتبار سے قوی اور مضبوط تھے۔برجستہ کلامی ان کا طرہ امتیاز تھا۔جب ضرورت ہوتی تو معانی کا سیلاب امڈ پڑتا۔وہ حبسِ فکر کے مریض نہ تھے۔معاملات و مسائل کے فہم و ادراک کا دروازہ ان پر کبھی بند نہیں ہوا تھا۔حقائق ان کے سامنے ہمہ وقت رہتے تھے۔ان کی منطق کو درجہ استقامت حاصل تھا۔ان کی فکر عمیق تھی۔ان کی تحقیق و تجس کا دور اس وقت تک ختم نہ ہوتا جب تک حق کی چہرہ کشائی پورے طور پر نہ ہو جاتی۔امام