مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 49 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 49

49 اہل علم کوحکم دو کہ وہ مساجد میں علم پھیلائیں کیونکہ سنت پر موت وارد ہو چکی ہے۔معاصرین کی گواہی آپ کی ان مساعی جمیلہ کی بدولت مسلم عوام کے رجحانات ہی تبدیل ہو گئے۔قوم کے مذاق اور مزاج میں نمایاں فرق آ گیا۔چنانچہ اس زمانے کے علماء کہتے ہیں ”ہم جب ولید کے زمانے میں جمع ہوتے تو عمارتوں اور طرز تعمیر کی بات چیت کرتے سلیمان کو کھانوں اور دعوتوں کا بڑا شوق تھا۔اس کے زمانے میں مجلسوں کا موضوع سخن یہی تھا لیکن عمر بن عبد العزیز کے زمانے میں نوافل واطاعت، ذکر الہی گفتگو اور مجلسوں کا موضوع بن گیا۔جہاں چار آدمی جمع ہوتے تو ایک دوسرے سے پوچھتے کہ رات کو قرآن پڑھنے کا تمہارا کیا معمول ہے۔تم نے کتنا قرآن یاد کیا ہے۔تم قرآن کب ختم کرو گے اور کب ختم کیا تھا۔مہینے میں تم کتنے روزے رکھتے ہو۔۳۵ے مندرجہ بالا چند صفحات میں حضرت عمر بن عبد العزیز کی اندرونی اصلاح اور مسلمانوں کی تربیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔اب ذرا آپ کی دعوت الی اللہ اور اشاعت اسلام کا تذکرہ ہو جائے۔اشاعت اسلام آپ نے روم کی طرف جانے والی افواج کو نصیحت فرمائی۔ا لا تقتلن حصنًا من حصون الروم ولا جماعة من جماعاتهم حتى تدعوهم الى الاسلام - ۳۶ دےلو۔کہ روم کے کسی قلعے یا جماعت پر اس وقت تک حملہ نہ کرنا جب تک انہیں اسلام کی دعوت نہ ۲۔آپ نے ماوراء النہر کے بادشاہوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے خطوط لکھے اور ان میں سے بعض اسلام لے آئے۔۔بلاذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہندوستان کے راجاؤں کو سات خطوط لکھے اور انہیں اسلام اور اطاعت کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کو اپنی سلطنتوں پر باقی رکھا جائے گا اور ان کے وہی حقوق و فرائض ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں۔