مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 48 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 48

48 طعن کیا کرتے تھے اور یہ بات خطبے کا جزو بن گئی تھی۔آپ نے اسے بالکل ختم کیا اور اس کی بجائے یہ آیات پڑھنے کا حکم دیا۔ان الله يامر بالعدل والاحسان۔۔۔۔۔لعلكم تذكرون 19 دیا۔ان۔ایک رسم بادشاہوں کو تحفے تحائف دینے کی تھی۔آپ اس کی بھی سختی سے پابندی کرتے تھے اور کوئی چیز وصول نہ کرتے۔ایک مرتبہ آپ کے اہل بیت میں سے کسی نے ایک سیب آپ کو تحفہ میں بھجوایا۔آپ نے شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا اور جب لانے والے نے دلیل دی کہ حضور ﷺ بھی لے لیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ ہدیہ حضور کیلئے ہدیہ ہی تھا اور ہمارے لیے رشوت ہے“۔بے ے۔پارسیوں کے تہواروں کے دن امیر معاویہ رعایا سے ایک بڑی رقم بطور ہدیہ لیتے تھے جس کی مقدار ایک کروڑ تھی۔آپ نے اسے یک لخت موقوف کر دیا۔اسے دو ہر بدعت کو ختم کرنے کے بارے میں آپ اتنے کمر بستہ تھے کہ فرماتے ہیں:۔ہر وہ بدعت جسے اللہ میرے ہاتھ سے میرے گوشت کے ٹکڑے کے عوض مردہ کر دے اور ہر وہ سنت جسے اللہ میرے ہاتھ پر قائم کر دے یہاں تک کہ اس کا انجام میری جان پہ ہو تو میرے لیے یہ آسان ہے“۔۳۲ مذہبی اصلاح لوگ اسلام کی سادہ اور پرکشش ، قابل فہم تعلیم سے دور جارہے تھے۔آپ نے اس کا تدارک کیا۔اہل اہواء مسئلہ قدر کی غلط تشریحات کرتے تھے۔آپ نے ان کے لیڈر غیلان دمشقی۔ނ تو یہ کرائی اور اس فاسد عقیدے کی اشاعت روکنے کیلئے ہر ممکن تدبیر کی۔امام مکحول سے فرمایا :- ایاک ان تقول في القدر ما يقول هؤلاء يعنی غیلان و اصحابه_۳۳ کہ تو مسئلہ قدر کے بارے میں غیلان اور اس کے ساتھیوں کی بات کہنے سے احتراز کر۔اسی طرح آپ اپنے عہد خلافت میں مذہبی تعلیم کی نشر و اشاعت میں کوشاں نظر آتے ہیں۔آپ نے اہل علم کو علم پھیلانے کی طرف متوجہ کیا۔جو لوگ اس کام کیلئے وقف ہوتے انہیں سودینار وظیفہ دیتے۔اسی طرح طلباء کو بھی وظائف دیتے۔آپ نے عمال کو لکھا:- اما بعد فامر اهل العلم ان ينشر العلم في مساجدهم فان السنة كانت قد امیتت - ۳۴