مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 43
43 پر، بدعت کے خاتمہ پر یا اس انعام پر جو آپ لوگوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ایک خط میں عمال سلطنت کو فرماتے ہیں :- ” میں نے تم کوحکومت کا جو کام سپر دکیا ہے اور جو اختیارات تفویض کیے ہیں ان میں تم کو احتیاط اور خوف خدا کی ہدایت کرتا ہوں تمہاری نظر اپنے اوپر اور اپنے عمل پر رہے اور ان چیزوں کی طرف جو تمہارے رب تک پہنچائیں تم اچھی طرح جانتے ہو کہ حفظ و نجات اس میں منحصر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں منزل مقصود تک پہنچ جاؤ اور اس یوم موعود کیلئے وہی چیز تیار رکھو جو خدا کے ہاں کام آنے والی ہو اور دوسروں کے واقعات میں تم نے ایسی عبرتیں دیکھیں ہیں جن کے برابر ہمارا وعظ ونصیحت موثر نہیں ہو سکتا۔۱۳ پابندی نماز نماز میں بڑی بے قاعدگی آگئی تھی خصوصاً حجاج نے نماز کی پابندی بالکل ترک کر دی تھی۔نیز خلفائے بنوامیہ عمدا اور رسما تاخیر سے نماز پڑھتے تھے۔آپ نے اس رسم کا خاتمہ کیا۔اول وقت میں نماز کا اہتمام کرتے اور پابندی کا یہ عالم تھا کہ مؤذن دروازے پر آکر یہ کہتا تھا السلام علیک یا امیر المومنین ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔وہ سلام نہ ختم کر پاتا تھا کہ آپ نماز کیلئے باہر تشریف لے آتے۔۱۳ آپ بیت المال سے موذنین کو وظیفہ دیا کرتے تھے۔لوگوں کو اس بارہ میں تلقین کرتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ فرمایا :- جس نے نماز ضائع کی وہ دوسرے فرائض اسلام کا سب سے زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔۱۵ آپ نے عدی بن ارطاۃ کو فرمان لکھا کہ حجاج کے طریق کو ترک کر دو۔فلا تسنن بسنته فان كان يصلى لغیر وقتھا۔کہ حجاج کا طریق مت اپناؤ وہ نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرتا تھا۔زكوة آپ نے زکوۃ کا ایسا مؤثر نظام بنایا کہ زکوۃ وصدقہ و قبول کرنے والا کوئی نہ ملتا تھا۔بیٹی بن سعید کہتے ہیں :۔میں افریقہ میں تحصیل زکوۃ پر مقرر تھا۔زکوۃ کی وصولی کے بعد اس کا مصرف ایک بھی نہ ملا حتی کہ میں نے چند غلام آزاد کرا کے ان کے حقوق کی ذمہ داری مسلمانوں کے سپرد کر دی۔11