مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 42
42 امرنا عمر بن عبدالعزيز بجمع السنن فكتبناها دفترًا فبعث الى كل ارض له سلطان دفترا۔کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں احادیث جمع کرنے کا حکم دیا تو ہم نے کا پیاں لکھ ڈالیں اور آپ نے جہاں جہاں آپ کی حکومت تھی اس کا ایک ایک نسخہ بھجوا دیا۔آپ کا یہ کارنامہ یقینا عظیم الشان اور قابل بیان ہے۔اب تدوین حدیث کا جب بھی تذکرہ ہوگا تو آپ کا نام سرفہرست ہوگا۔کیونکہ عین اس وقت جب مسلمان رسول اللہ ﷺ کے طریق سے پرے جارے تھے آپ نے اس ضروری اقدام کی طرف توجہ دی۔شریعت اسلامیہ وسنت نبوی کا نفاذ اسلام کی حالت زار کا بیان پہلے کیا جاچکا ہے۔اب صرف آپ کی مساعی جمیلہ کا ذکر ہی کیا جائے گا۔آپ نے آغاز خلافت میں ہی ایک فرمان جاری کیا جس میں فرمایا :- ان للايمان فرائض و شرائع و حدودًا و سننا فمن استكملها ستكمل الايمان و من لم يستكملها لم يستكمل الايمان فان اعش فسأبينهالكم حتى تعملوا بها و ان امت فما أنا على صحبتكم بحریص “۔اسلام کے کچھ حدود و قوانین و سنن و شرائع ہیں۔جو ان پر عامل ہوگا اس کے ایمان کی تکمیل ہوگی۔جو ایسا نہیں کرے گا اس کا ایمان نا مکمل رہے گا۔اگر زندگی نے وفا کی تو میں تمہیں اس کی تعلیم دوں گا حتی کہ تم ان پر کار بند ہو جاؤ گے۔اگر اس سے پہلے میرا وقت آ گیا تو میں تمہارے درمیان رہنے پر کچھ ایسا حریص بھی نہیں ہوں۔اللہ آپ احیائے شریعت کے بارہ میں اتنے سنجیدہ اور فکرمند تھے کہ آپ کے ہر فرمان، ہر خط اور مراسلے میں شریعت پر عامل رہنے اور بدعات سے پر ہیز کرنے کی تلقین ہوتی تھی۔چنانچہ ابن جوزی لکھتے ہیں :- ماطلع كتاب عمر بن عبدالعزيز الاباحدى ثلاث احياء سنة و اماتة بدعة و قسم يقسمه بين الناس - 1 کہ عمر بن عبدالعزیز کا ہر خط ان تین باتوں میں سے کسی ایک پر مشتمل ہوتا تھا۔سنت کے احیاء