مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 26 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 26

26 دنیا و آخرت میں نازل ہوں گے۔مسجد کو وقت کے جابر بادشاہوں اور باطل پرستوں کے خلاف استقامت کا پہاڑ بنا پڑتا ہے۔اس لیے اس پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اسے ثبات قدم عطا کرتے ہیں۔-۲- اسی طرح فرماتا ہے لا يمسه الا المطهرون - کہ قرآن کے گہرے مطالب صرف وہی لوگ پاسکتے ہیں جنہیں خوب پاک کیا گیا ہو۔اب ظاہر ہے کہ مجدد کا سب سے بڑا کام قرآن کریم کی غلط تفاسیر کو کالعدم کر کے اس کے حقیقی مطالب کا بیان ہے۔اس کام کیلئے انہیں خدا کی طرف سے پاکیزگی بخشی جاتی ہے اور علوم قرآنیہ سکھائے جاتے ہیں اور جسے یہ شرف ملے لازماًوہ صاحب مکالمہ و مخاطبہ ہوگا۔پھر فرمایا الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ) الذين امنوا و كانوا يتقون لهم البشرى فى الحيوة الدنيا و في الاخرة الخ۔9 فرماتا ہے کہ اولیاء اللہ پر کوئی خوف اور حزن نہیں ہوتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر دنیا و آخرت میں بشارتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور یہ بشارتیں یقیناً خدا کے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ القصص میں فرماتا ہے و اوحينا الى ام موسى ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه فى اليم ولا تخافى ولا تخزني الخ۔کہ خدا کے الہام نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں اتنا اطمینان اور یقین بھر دیا کہ وہ اپنے دودھ پیتے جگر گوشے کو دریا کی لہروں کے سپرد کرنے پر تیار ہوگئی۔ایسی سکینت سوائے الہام کے حاصل ہو نہیں سکتی۔اور آیت نمبر ۳ میں بھی خدا نے اولیاء اللہ کیلئے لا خوف عليهم۔۔۔۔۔۔کے الفاظ ر کھے ہیں اور یہی الفاظ لا تخافی و لا تحزنی یہاں ہیں۔گویا یہ بتایا کہ اولیاء اللہ پر خوف و ملال کا نہ ہونا اور سکینت کا نازل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر الہام نازل ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حقیقت کو فتح اسلام میں بھی واضح فرمایا ہے کہ مجد دزمانہ مکالمہ مخاطبہ کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔تجدید دین وہ پاک کیفیت ہے کہ اول عاشقانہ جوش کے ساتھ اس پاک دل پر نازل ہوتی ہے کہ جو مکالمہ الہی کے درجہ تک پہنچ گیا ہو۔پھر دوسروں میں جلد یا بدیر سے اس کی سرایت ہوتی ہے۔جو لوگ خدا کی طرف سے قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان