مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 25
25 محبت اور صدق اور وفا میں ترقی شامل ہے اس لیے وہ اپنے تمام قولی کو اسی خدمت میں لگادیتا ہے اور رب زدنی علما کی دعا میں ہر وقت مشغول رہتا ہے۔خدا کے فضل سے علوم الہیہ میں اس کو بسطت عنایت ہوتی ہے اور شریعت پر ہرقسم کے اعتراضات طبابت کی رو سے عقلی بناء پر یا نفلی بناء پر ہوتے ہیں۔امام کا کام ہے کہ وہ ان کا جواب دے بلکہ اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرے۔چهارم قوت عزم یعنی کسی حالت میں بھی نہ تھکنا اور نا امید نہ ہونا۔ارادہ میں سست نہ - ہونا۔بسا اوقات امام کو ایسے ابتلاء پیش آتے ہیں کہ نصرت الہی میں تاخیر ہو جاتی ہے اور مخالفین کی ایذاء انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔ایسے حالات میں قوت عزم اس کا ساتھ دیتی ہے۔اقبال علی اللہ کی قوت: ابتلاؤں کے وقت ، جب لوگ نشان نمائی کا مطالبہ کریں ،سخت دشمن سے مقابلہ ہو یا کسی فتح کی ضرورت ہو تو خدا کی طرف جھکے۔تب اس کی دعائیں ملاء اعلیٰ نا میں ایک غلغلہ اور شور برپا کر دیتی ہیں اور خدا اس کی سہولت کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ششم کشوف والہامات امام الزماں اکثر بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم اور حقائق اور معارف پاتا ہے۔اس کے الہامات کیفیت اور کمیت میں دوسرے اولیاء سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔امام الزماں کی الہامی پیشگوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتی ہیں“۔ہے یہ آخری بات زیادہ تفصیل کی متقاضی ہے کیونکہ جولوگ انقطاع وحی والہام کے قائل ہیں وہ امام کی اس خصوصیت کے بھی منکر ہیں۔لیکن قرآن پکار پکار کر ان کی تردید کر رہا ہے۔اور اس کے علاوہ آئندہ صفحات میں بعض مجددین کے الہامات و کشوف پیش کیے جائیں گے جو معترض کا دعوی باطل کریں گے۔اس وقت قرآن کریم سے ثابت کیا جارہا ہے کہ مجدد کیلئے الہام ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة۔۔۔۔۔نحن أولياء كم في الحيوة الدنيا والآخرة۔۔۔۔نزلاً من غفور رحیم۔فرمایا: جولوگ خدا کے راستے میں استقامت کا مظاہرہ کریں گے ان پر ملائکہ خوشخبریاں لے کر