مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 15 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 15

15 مجد ڈین کے آنے کی حکمت کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس سوسال کے عرصہ میں احکام دین اور کتاب وسنت کی اتباع میں جو بدعتیں رواج پاگئی ہوں مجد دان کو ختم کرتے اور حق کو قائم کرتے ہیں اور سنت کو بدعت سے جدا کر کے دکھلا دیتے ہیں۔نواب صدیق حسن خانصاحب مزید لکھتے ہیں کہ :- اس لحاظ سے ہر عالم دین ، خدا پرست، سنت کا احیاء کرنے اور بدعت مٹانے والا مجددین نبوی اور کی سنت مصطفوی ہے۔اسے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حدیث مجددین کی تشریح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:- اب میں مختصراً کچھ اس حدیث کے متعلق کہنا چاہتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ اس حدیث کے بارہ میں پہلوں نے کیا کہا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فرمایا اور اس حدیث کا مقام کیا ہے۔یہ حدیث جو صحاح ستہ میں سے صرف ایک کتاب میں صرف ایک بار بیان ہوئی ہے، یہ ہے: ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها - کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کیلئے ”من“ کھڑے کرے گا (من پر میں خاص زور دے رہا ہوں ) یعنی اللہ تعالیٰ کئی لوگ ایسے پیدا کرے گا جو دین کی تجدید کریں گے اور اس کی رونق کو بڑھانے والے ہوں گے اور اگر بدعتیں بیچ میں داخل ہو گئی ہوں گی تو وہ ان کو نکالیں گے اور اسلام کا نہایت صاف اور خوبصورت چہرہ ایک بار پھر دُنیا کے سامنے پیش کریں گے۔یہ حدیث ابوداؤد میں ہے۔مستدرک میں ہے اور شاید ایک اور کتاب میں بھی ہے۔صرف تین کتابوں میں ہمیں یہ حدیث ڈھونڈنے سے ملی ہے۔اس حدیث میں تو یہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر من آئے گا۔یعنی ایسے نائب الرسول ( ) آئیں گے جو تجدید کا کام کریں گے۔مَنُ کے معنے عربی لغت کے لحاظ سے ایک کے بھی ہیں، دو کے بھی ہیں اور کثرت کے بھی ہیں۔پس اگر کثرت سے معنے لیے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ ہر صدی کے سر پر کثرت سے ایسے لوگ موجود ہوں گے ( یعنی آنحضرت میہ کے خلفاء واخیار وابرار ) جو دین اسلام کی خدمت میں لگے ہوں گے۔اس میں کسی ایک شخص واحد کا کوئی ذکر نہیں۔لسان العرب عربی لغت کی ایک مشہور کتاب ہے۔اس میں لکھا ہے کہ من کا لفظ تـــــون لواحد والاثنين والجمع کہ یہ لفظ واحد کیلئے بھی ، دو کیلئے بھی اور جمع کیلئے بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کریم کی لغت مفردات امام راغب میں ہے کہ يعبر به من الواحد والجمع والمذكر