مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 11 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 11

11 آتی رہی ہے۔اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی تو راۃ بنی اسرائیل کی تعلیم کیلئے کامل تھی اور جس طرح قرآن کریم میں یہ آیت اليوم اکملت لکم ہے اسی طرح تو راہ میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے۔لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جولوگ تعلیم تو ریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہوگئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں۔چنانچہ اللہ جل شانہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے ولقد اتينا موسى الكتب وقفينا من بعده بالرسل۔۔۔۔اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے ثم ارسلنا رسلنا تترا۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کیلئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے“۔۲۵ دین کی تازگی کیلئے مجددین کی ضرورت حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں :- رسول کریم اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں ہر صدی پر ایک ایسا نمونہ آتارہے گا آپ فرماتے ہیں ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها۔اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے سر پر ایسے شخص بھیجتارہے گا جو دین کو نیا کرتے رہیں گے۔یعنی جو تعلیمات باطل انسانوں کی طرف سے شامل ہوتی رہیں گی ان کو دور کرتے رہیں گے۔چنانچہ ایسے مجددین اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو اصل میں یہی ذریعہ سب سے اعلیٰ اور اکمل ہے اور دوسرے ذرائع اس کے مد اور معاون تو ہو سکتے ہیں مگر اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کا اثر قطعی اور یقینی ہے اور ان کے اثرات بوجہ اس کے کہ ان کو استعمال کرنے میں ایسے لوگوں کو دخل ہے جوخود کامل استاد نہیں غلطی کا احتمال ہے۔مگر چونکہ اس ذریعہ کا مہیا کرنا انسان کے اپنے