مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 12 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 12

12 اختیار میں نہیں ہے اسلام نے اور ذرائع بھی بیان کئے ہیں جن سے اعلیٰ اخلاق پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ہے خدا تعالیٰ کی صفت کلیم کا ثبوت مجددین کی آمد سے ملتا ہے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں :- یا د رکھنا چاہئے کہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ ہر ایک زمانہ کے لوگوں کا دل تسلی پاسکتا ہے۔اگر کسی زمانہ میں الہام ہوتا تھا تو آج کیوں نہیں ہوتا۔کیا خدا پچھلے زمانہ میں بولتا تھا اور اب نہیں بولتا۔کیا وہ کسی زمانہ میں سنتا تھا اور اب نہیں سنتا۔وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے وہ اب نہیں بولتا؟ ایک طالب حق جو کہ دن رات اٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کی محبت ہی میں محور ہتا ہے اس کیلئے یہ کیسی کمر توڑ دینے والی بات ہے کہ خدا نے کسی زمانہ میں کلام کیا تھا مگر وہ اب کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔آخر اس کیلئے کوئی وجہ ہونی چاہئے تھی۔جب بولنا خدا کی صفت ہے تو کیا خدا کی صفات معطل ہو جایا کرتی ہیں؟ اگر معطل ہو جاتی ہیں تو خدا قادر مطلق اور ازلی ابدی کیونکر ہو سکتا ہے۔اگر معطل نہیں ہوتیں تو اب وہ کیوں نہیں بولتا ؟ یہ سوالات ہیں جو کہ ایک محقق کے دماغ میں فورا گونج اُٹھتے ہیں جبکہ وہ یہ عقیدہ سنتا ہے اور اس کا جواب کوئی اور مذہب سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں دیتا مگر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ اس کا دندان شکن جواب دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جولوگ سلسلہ الہام کو منقطع خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔اس لئے یہ سوال ہی لغو ہے۔خدا بولتا تھا اور اب بھی بولتا ہے۔چونکہ یہ اس کی صفت ہے کہ وہ بولتا ہے اس لئے یہ معطل نہیں ہوسکتی اور یہ اسلام کا دعوی ہی نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی وہ دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے آدمی موجود رہتے ہیں جو الہام الہی سے مستفیض ہوتے ہیں اور ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا ہے جو الہام کے جھٹلانے والوں کے رڈ میں ایک زندہ دلیل ہوتا ہے اور اس بات کے ثبوت کیلئے کہ آیا کسی شخص کو واقعی الہام ہوتا ہے یا نہیں خدا تعالیٰ نے یہ