مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xl
XIII حفاظت اسلام کا ذریعہ سلسلہ مجددین قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور ہمارے نبی محمد مصطفی میلہ کا بے مثل معجزہ ہے۔یہ عظیم الشان کلام کیا بلحاظ مضمون و معانی، کیا بلحاظ فصاحت و بلاغت اور کیا بلحاظ ظاہری و باطنی حسن اپنی مثال آپ ہے اور باوجود مطالبہ کے آج تک کسی بھی پہلو سے اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکی۔اس میں شک نہیں کہ گزشتہ الہامی کتابیں بھی خدا کا کلام تھیں مگر آخری شریعت اور کامل تعلیم ہونے کا دعویٰ کسی نے بھی نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ مرور زمانہ سے ان میں بگاڑ پیدا ہو گیا۔ضروری تھا کہ بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے اس کامل و مکمل آخری والہی شریعت کی حفاظت کا دائمی انتظام ہوتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ وعدہ فرمایا کہ انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحفظون۔ہم نے یہ پاک کلام اتارا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کی تکمیل اس طرح فرمائی کہ قرآن کی لفظی حفاظت کی خاطر اسے زبانی یاد کرنے والوں کیلئے آسان کر دیا اور ہر زمانہ میں قرآن کے لاکھوں حفاظ پیدا ہوئے جنہوں نے اس پاک کلام کو اپنے دل وسینہ میں محفوظ رکھا۔پھر قرآن چونکہ عربی زبان میں ہے اور اس کا مفہوم سمجھنے کیلئے غیر عربی لوگوں کو اس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت پیش آنی تھی اور تراجم میں غلط فہمی کا امکان تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی معنوی حفاظت کا بھی انتظام فرمایا۔جس کا سورہ نور کی آیت استخلاف میں ذکر ہے۔یعنی سلسلہ خلافت و مجد ڈیت۔جس کی مزید وضاحت نبی کریم کے ان دو ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجد دمبعوث فرماتا رہے گا۔دوسرے خلافت راشدہ کے انقطاع اور ملوکیت اور ظالم و جابر بادشاہتوں کے ادوار کے بعد پھر خلافت على منهاج النبوت قائم ہوگی۔چنانچہ اسلام کی گزشتہ صدیاں گواہ ہیں کہ یہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا اور خلافت راشدہ کے بعد کوئی زمانہ ان مجددین امت سے خالی نہیں رہا۔اور ہر صدی کے سر پر بھی مجدد آتے رہے۔جو سب اہل اسلام میں مسلّم ہیں۔