مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 350 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 350

350 کیلئے آپ نے چند تدبیریں کی ہیں جن پر عمل کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور ہوگا۔(1) دنیا میں سب سے بڑی وجہ فساد کی یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بزرگوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور دوسرے مذاہب کی خوبیوں سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔حالانکہ عقل سلیم اسے تسلیم نہیں کر سکتی کہ خدا تعالیٰ جو رب العالمین ہے وہ کسی ایک قوم کو ہدایت کیلئے چن لے گا اور باقی سب کو چھوڑ دے گا۔مگر عقل سلیم خواہ کچھ کہے دنیا میں یہ خیال پھیلا ہوا تھا اور اس کی وجہ سے سخت فسادات پیدا ہور ہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صداقت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور بڑے زور سے دعوی کیا کہ ہر قوم میں نبی گزرے ہیں اور اس طرح ایک عظیم الشان وجہ فساد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سے پہلے بھی بعض بزرگوں نے بعض قوموں کے بزرگوں کو یا بعض قوموں نے بعض غیر قومی بزرگوں کو خدا رسیدہ تسلیم کیا ہوا تھا۔جیسے مثلاً ایک دہلوی بزرگ نے فرمایا کہ کرشن نبی تھے۔اسی طرح تو ریت میں ایوب علیہ السلام کو نبی کر کے پیش کیا گیا ہے۔حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہ تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ کو اور رنگ میں پیش کیا ہے۔آپ کے دعوی سے پہلے مختلف اقوام کے ہدایت کے متعلق مختلف خیالات تھے۔(1) بعض کا خیال تھا کہ باقی سب لوگ جہنمی ہیں صرف ان کی قوم نجات یافتہ ہے۔یہود اور زرتشتی اس خیال کے تھے۔(2) بعض کا خیال تھا کہ ان کے بانی کی آمد سے پہلے تو دنیا کی ہدایت کا دروازہ بند تھا۔مگر اس کے آنے کے بعد کھلا ہے۔مسیحی لوگ اس خیال کے پابند ہیں۔ان کے نزدیک ہدایت عام حضرت مسیح ناصری کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔(3) بعض کا خیال تھا کہ ہدایت قومی تو ان کی قوم سے ہی مخصوص ہے لیکن خاص خاص افراد دوسری اقوام کے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔مگر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی اور مذہب کا خدا تعالیٰ کی محبت کو دل میں پیدا کر کے مجاہدہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم کرتا ہے۔گویا اسے ایک ایسا راستہ مل جاتا ہے جو گوسیدھا منزل مقصود تک نہیں پہنچتا لیکن چکر کھا کر پہنچ جاتا ہے۔مسلمانوں کے خیالات بھی باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو حل کر دیا تھا، غیر معین تھے۔وہ یہ خیال کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں کے ذریعہ دنیا کی ہدایت ہوتی رہی ہے۔حالانکہ