مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 346
346 شخص اٹھ کر کسی ایک بات کو لے کر اعتراض شروع کر دیتا اور اپنے خصم کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرنے لگتا تھا۔آپ نے اس نقص کو دور کیا اور اعلان کیا کہ مذاہب کی شان کے خلاف ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں سے کام لیں۔نہ کسی کا نقص نکالنے سے مذہب کی سچائی ثابت ہوسکتی ہے اور نہ صرف ایک مسئلہ پر بحث کر کے کسی مذہب کی حقیقت ظاہر ہوسکتی ہے۔مذاہب کی پر کھ مندرجہ ذیل اصول پر ہونی چاہیے۔(الف) مشاہدہ پر۔یعنی ہر مذہب جس غرض کیلئے کھڑا ہے اس کا ثبوت دے۔یعنی یہ ثابت کرے کہ اس پر چل کر وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے جس مقصد کو پورا کرنا اس مذہب کا کام ہے۔مثلاً اگر خدا کا قرب اس مذہب کی غرض ہے اور ہر مذہب کی یہی غرض ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ ثابت کرے کہ اس مذہب پر چلنے والوں کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ اگر وہ یہ ثابت نہیں کرسکتا تو اس کے قیام کی غرض ہی مفقود ہو جاتی ہے اور وہ ایک جسم بے روح ہو جاتا ہے۔چند اخلاقی یا تمدنی تعلیمیں یا فلسفیانہ اصول کسی مذہب کو سچا ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں کیونکہ ان باتوں کو انسان دوسرے مذاہب سے چرا کر یا خود غور و فکر کر کے بغیر اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو پیش کر سکتا ہے۔مذہب کا اصل ثبوت تو صرف یہی ہو سکتا ہے کہ جس مقصد کیلئے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب ، وہ انسان کو حاصل ہو جائے اور اسی دنیا میں حاصل ہو جائے۔کیونکہ اگر کوئی مذہب یہ کہے کہ وہ مرنے کے بعد نجات دلائے گا تو اس دعویٰ پر یقین نہیں کیا جاسکتا اور اس کی صداقت کو پرکھا نہیں جاسکتا۔اور علاوہ ازیں اس دعوئی میں سب مذاہب شریک ہیں۔کوئی مذہب نہیں جو کہتا ہو کہ میرے ذریعہ نجات مل سکتی ہے۔گو نجات کے مفہوم میں ان کو اختلاف ہو۔پس بعد مرنے کے نجات دلانے کا دعوئی نا قابل قبول ہے اور نہ مذہب کی غرض کو پورا کرتا ہے۔جو چیز قابل قبول ہوسکتی ہے وہ یہی ہے کہ مذہب مشاہدہ کے ذریعہ ثابت کر دے کہ اس نے انسانوں کی ایک جماعت کو جو اس پر چلتی تھی خدا سے ملا دیا اور اس کا قرب حاصل کرا دیا۔یہ دلیل ایسی زبردست ہے کہ کوئی شخص اس کی صداقت کا انکار نہیں کر سکتا اور پھر ساتھ ہی یہ بھی بات ہے کہ اس دلیل کے ساتھ تمام فضول مذہبی بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور نیز سوائے اسلام کے کوئی مذہب میدان میں باقی نہیں رہتا۔کیونکہ یہ دعویٰ صرف اسلام کا ہے کہ وہ آج بھی اسی طرح فیوض ظاہر کرتا ہے جس طرح کہ پہلے زمانوں میں فیوض