مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 345
345 حاصل ہو گیا تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور کفر دنیا میں موجود رہا۔گو دنیا میں اسلام کی حکومت ہوگئی مگر دلوں میں کفر باقی رہا اور ان ملکوں کی طرف بھی توجہ نہ کی گئی جن کو اسلامی حکومتوں سے جنگ کا موقع نہ پیش آیا۔اور اس وجہ سے وہاں کفار کی حکومت رہی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر اپنی جگہ پر پھر طاقت پکڑتا گیا اور بعض قوموں کی سیاسی برتری کے ساتھ ہی اسلام کو نقصان پہنچنے لگا۔اگر مسلمان جہاد کی یہ تعریف جانتے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے کہ جہاد ہر اس فعل کا نام ہے جسے انسان نیکی اور تقویٰ کیلئے قائم کرتا ہے اور وہ جس تلوار سے ہوتا ہے اسی طرح اصلاح نفس سے بھی ہوتا ہے اور اسی طرح تبلیغ سے بھی ہوتا ہے اور مال سے بھی ہوتا ہے اور ہر ایک قسم کا جہاد کا الگ الگ موقع ہے۔تو آج روز بدنہ دیکھنا پڑتا۔اگر اس تعریف کو سمجھتے تو اسلام کے ظاہری غلبہ کے موقع پر جہاد کے حکم کو ختم نہ سمجھتے۔بلکہ انہیں خیال رہتا کہ صرف ایک قسم کا جہاد ختم ہوا۔دوسری اقسام کے جہاد ابھی باقی ہیں اور تبلیغ کا جہاد شروع کرنے کا زیادہ موقع ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ نہ صرف اسلام اسلامی ممالک میں پھیل جا تا بلکہ یورپ بھی آج مسلمان ہوتا اور اس کی ترقی کے ساتھ اسلام کو زوال نہ آتا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کے مواقع بتائے ہیں اور فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں شریعت کے مطابق کس جہاد کا موقع ہے اور خود بڑے زور سے اس جہاد کو شروع کر دیا اور تمام دنیا میں تبلیغ جاری کر دی ہے۔اب بھی اگر مسلمان اس جہاد کو شروع کریں تو کامیاب ہوجائیں گے۔اگر مسلمان سمجھیں تو آپ کا یہ فعل ایک زبر دست خدمت اسلامی ہے اور اس کے ذریعہ سے آپ نے نہ صرف آئندہ کیلئے مسلمانوں کو بیدار کر دیا ہے اور ان کیلئے ترقی کا راستہ کھول دیا ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک بہت بڑے گناہ سے بھی بچالیا ہے۔کیونکہ گو مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا ہے لیکن اسے فرض سمجھ کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے تھے اور اس طرح اس احساس گناہ کی وجہ سے گناہگار بن رہے تھے۔اب آپ کی تشریح کو جوں جوں مسلمان تسلیم کرتے جائیں گے اُن کے دلوں پر سے احساس گناہ کا زنگ اترتا جائے گا اور وہ محسوس کریں گے کہ وہ خدا اور اس کے رسول سے غداری نہیں کر رہے تھے۔صرف نقص یہ تھا کہ صحیح جہاد کا انہیں علم نہ تھا۔(3) تیسرا کام اسلام کی ترقی کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کیا ہے کہ آپ نے جدید علم کلام پیدا کیا ہے۔آپ کی بعثت سے پہلے مذاہب کی جنگ گوریلا وار سے مشابہ تھی۔ہر ایک