مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxviii
XI میرے مہدی کو غیب سے ظاہر فرمادے تا دنیائے عدل منصہ شہود پر آجائے۔قادیان سے ہجرت سے قبل منصب مجددیت کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تصریح فرمائی کہ خلیفہ تو خود مجدد ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے۔پھر اس کی موجودگی میں مجد دکس طرح آ سکتا ہے۔مجد د تو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے“ (الفضل 8 اپریل 1947 ء صفحہ 4) ازاں بعد سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے روح پرور خطاب (27 راکتو بر 1968ء) میں مجددیت اور خلافت پر تیز روشنی ڈالی جو ہمیشہ مینارہ نور ثابت ہوگی۔حضور نے فرمایا:- جیسا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا حضور اس صدی کے مجدد ہی نہیں مجددالف آخر بھی ہیں۔لہذا اب اس صدی کے سر پر پہلے مجددین کی طرح کسی نئے مجدد کی آمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔البتہ حضور کے بعد قائم ہونے والی خلافت راشدہ کی ماتحتی میں ہر زمانہ میں تجدید دین کا فریضہ ادا کرنے والے ائمہ وصلحاء پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور خلافت راشدہ کی برکت کے طفیل ایسے مجددین سے جو خلافت راشدہ کی ماتحتی میں خلافت ائمہ کے مظہر ہوں گے کوئی زمانہ بھی خالی نہیں ہوگا“۔(انصار اللہ ربوہ۔فروری 1969 ء صفحہ 15) حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت 1445 ء وفات 1505ء) کی مشہور پیشگوئی ہے کہ عیسى نبى الله ذو الآيات يجددا لدين لهذه الامة۔۔۔۔بعد لم يبق من مجدد (حج الكرامه في آثار القیامہ 138 مرتبہ نواب صدیق حسن خان اشاعت ذوالحجہ 1291ھ مطابق جنوری 1875ء)۔یعنی مسیح موعود جنبی اللہ اور الہی نشانات کا مظہر ہوگا اس امت کے دین کی تجدید کرے گا اور اس کے بعد کوئی مجدد نہ ہو گا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مندرجہ بالا خطاب میں اسی پیشگوئی کی روح پرور تشریح و توضیح فرمائی ہے جو قیامت تک مشعل راہ کا کام دے گی۔چونکہ نظام خلافت ہی سے عالمی سطح پر دین مصطفوی کی تجدید و تمکین دونوں ہی وابستہ ہیں اس لیے آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو تاکیدی وصیت فرمائی کہ :- فان رئيت يومئذٍ خليفة الله فى الارض فالزمه و آن نهک جسمک و اخذ مالک (مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 403) یعنی اس زمانہ میں اگر زمین پر کوئی