مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 338 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 338

338 طور پر لمبا عرصہ بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔سیرالیون کے علی Rogers نے عالم جوانی میں احمدیت قبول کی جبکہ ان کی بارہ بیویاں تھیں۔اسلامی تعلیم کی اجازت کے مطابق صرف چار بیویاں اپنے پاس رکھیں اور باقیوں کو رخصت کر دیا۔(بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ۔مارچ 1984 ء صفحہ 30-31) امریکہ کے ایک مشہور موسیقار نے احمدیت قبول کی تو موسیقی کی رغبت بالکل ٹھنڈی پڑ گئی۔اپنی ساری مصروفیات اور ان سے ملنے والی کثیر آمدن کو نظر انداز کر کے درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔تہجد کے ایسے پابند ہو گئے ، ایسے عاشق رسول بن گئے کہ آنحضرت ﷺ کا نام لیتے ہی آنکھوں سے آنسو رواں صلى الله ہو جاتے ! (بحوالہ ماہنامہ خالد بود۔جنوری 1988 صفحہ 40- خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع فرموده 16 اکتوبر 1987ء) نیک اور پاکیزہ تبدیلیوں کے یہ واقعات کوئی افسانے نہیں ہیں۔یہ حقیقتیں ہیں اور ایسی معجزانہ اور ایمان افروز حقیقتیں ہیں جن سے احمدیت کا دامن بھرا ہوا ہے۔یہ کرشمے جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور دنیا کا ہر خطہ ان پر شاہد ناطق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں :- " ہے۔”میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ (سیرت المہدی مطبوعہ قادیان 1935 ء جلد اوّل صفحہ 165) ہندوستان کے ایک اخبار نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :- قادیان کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پیغمبر پیدا ہوا جس نے اپنے گردو پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھر دیا۔یہ اچھی صفات اس کے لاکھوں ماننے والوں کی زندگی میں بھی منعکس ہیں۔سٹیٹسمین دہلی 12 فروری 1949ء بحوالہ تحریک احمدیت از برکات احمد صاحب را جیکی مطبوعہ قادیان 1958 صفحہ 13) کہ لاکھوں کا زمانہ تو کب کا گزر چکا۔اب تو کروڑوں کا زمانہ آ گیا ہے اور اربوں کا زمانہ بھی کچھ دور نہیں۔یہ عالمگیر روحانی انقلاب زندگی اور امید کا وہ پیغام ہے جو احمدیت نے دنیا کو دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی برحق فرمایا تھا: - ” اس درخت کو اس کے پھلوں اور اس نیر کو اس کی روشنی سے شناخت کرو گے“۔(روحانی خزائن مطبوعہ لندن 1984 ء جلد سوم، فتح اسلام صفحہ 44)