مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 337 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 337

337 نے ان سے پوچھا کہ آپ کو بیعت کر کے کیا ملا۔جواب دیا : - مردہ تھا، زندہ ہو چلا ہوں۔گناہوں کا علانیہ ذکر کرنا اچھا نہیں۔۔۔قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے ، حضرت پیغمبر خدا کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے، پہلے نہ تھی۔یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت ہے۔تائید حق مولفہ مولوی حسن علی صاحب۔بار سوم 23 دسمبر 1932 ء اللہ بخش سٹیم پر لیس قادیان صفحہ 79) حضرت مولانا غلام رسول را جیکی بیان کرتے ہیں کہ نواب خان صاحب تحصیلدار نے ایک بار حضرت مولانا نورالدین سے پوچھا کہ مولانا! آپ تو پہلے ہی باکمال بزرگ تھے۔آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے زیادہ کیا فائدہ حاصل ہوا۔اس پر حضرت مولانا صاحب نے فرمایا :- نواب خان ! مجھے حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے فوائد تو بہت حاصل ہوئے ہیں لیکن ایک فائدہ ان میں سے یہ ہوا ہے کہ پہلے مجھے حضرت نبی کریم ﷺ کی زیارت بذریعہ خواب ہوا کرتی تھی ، اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔حیات نور مصنفہ شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل صفحہ 194) تاریخ احمدیت ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ احمدیت میں نئے شامل ہونے والوں کی زندگیوں میں ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کر دیا۔ان کو گناہوں کی آلائش سے پاک کر کے اسلامی تعلیمات پر سچا عامل بنا دیا۔ان میں ایسے بھی تھے جو احمدی ہونے سے قبل علاقہ کے خطرناک ڈاکو تھے۔احمدیت نے ان کو ایسا بدلا کہ خدا نما وجود بن گئے۔ایسے بھی تھے کہ رشوت لینا ان کا روزانہ کا معمول تھا۔احمدی ہوئے تو نوٹوں کی بوری کمر پر اٹھا کر گاؤں گاؤں پھر کر یہ اعلان کرتے کہ جس کسی نے مجھے رشوت دی تھی وہ اپنی رقم مجھ سے وصول کر لے۔ایسے عیسائی بھی تھے کہ جو ہر شام سونے سے قبل رسول خدا کو گالیاں دے کر سوتے تھے۔احمدی ہوئے تو عرق گلاب سے منہ صاف کر کے درود و سلام پڑھنے کے بعد بستر پر دراز ہوتے ! انگلستان کے بشیر آرچرڈ صاحب عیسائیت سے تو بہ کر کے 1944ء میں احمدی مسلمان ہوئے۔جوئے اور شراب نوشی سے توبہ کی۔اسلامی تعلیم کے ایسے پابند ہوئے کہ دعا گو بزرگ بن گئے۔نظام وصیت میں شامل ہوئے ، 1/3 حصہ کی وصیت کی۔زندگی وقف کی اور پہلے انگریز مبلغ کے