مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 327
327 اب دیکھوا نہیں سوسال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس واقعہ کی اصل حقیقت کا پتہ لگانا کتنا بڑا کام ہے۔خصوصاً جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کے صلیب پر سے زندہ اترنے کے ثبوت آپ کے خود انجیل سے ہی دیئے ہیں۔مثلاً یہ کہ حضرت مسیح سے ایک دفعہ علماء زمانہ نے نشان طلب کیا۔تو اس نے انہیں جواب میں کہا:- اس زمانہ کے برے اور زنا کارلوگ نشان طلب کرتے ہیں۔مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا“۔(متی باب 12 آیت 40) تو رات سے ثابت ہے کہ حضرت یونس تین دن تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے تھے اور پھر زندہ ہی نکلے تھے۔پس ضروری تھا کہ حضرت مسیح ناصری بھی صلیب کے واقعہ کے موقع پر زندہ ہی قبر میں داخل کئے جاتے اور زندہ ہی نکلتے۔پس یہ خیال کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گئے تھے انجیل کے صریح خلاف ہے اور خود مسیح کی تکذیب اس سے لازم آتی ہے۔عیسائیت کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کا یہ اتنا بڑا حربہ ہے کہ آپ کے کام کی عظمت ثابت کرنے کیلئے اکیلا ہی کافی ہے۔مگر آپ نے اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ آپ نے تاریخ سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح ناصری واقعہ صلیب کے بعد کشمیر آئے اور وہاں آکر فوت ہو گئے۔گویا ان کی ساری زندگی کو پردہ اخفاء سے نکال کر ظاہر کر دیا۔(1) چھٹی غلطی حضرت مسیح کی زندگی اور دوبارہ آنے کے متعلق تھی۔اس غلطی کو بھی آپ نے ظاہر کیا اور بتایا کہ اس میں خدا تعالیٰ کی بہتک ہے کہ وہ اپنے کام کیلئے ایک پرانا آدمی سنبھال کر رکھ چھوڑے اور نیا آدمی نہ بنا سکے۔کیا جو صبح کی باسی روٹی رکھ کر شام کو کھائے گا اسے امیر کہا جائے گا ؟ یہ باسی روٹی رکھنے والے کی امارت نہیں بلکہ غربت کا ثبوت ہوگا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو زندہ رکھا ہوا ہے تا کہ ان کے ذریعہ امت محمدیہ کی اصلاح کرے۔ان کے کہنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ سے حضرت عیسیٰ جیسا انسان اتفاقاً بن گیا تھا جسے اس نے