مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 328
328 سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ جب دنیا میں فتنہ ہوگا تو اسے نازل کرے گا۔مگر یہ غلط ہے جس طرح امیروں کا یہ کام ہوتا ہے کہ جو روٹی بچ رہے اسے غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں اور دوسرے وقت نیا کھانا تیار کرتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ہر زمانہ کے مطابق نئے بندے پیدا کرتا ہے۔پراگر اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو سنبھال کر رکھنا ہوتا تو محمد ﷺ جیسے انسان کو زندہ رکھتا مگر آپ فوت ہو گئے۔کیا دنیا میں کوئی انسان ایسا ہے جو عمدہ دوا ک تو پھینک دے اور ادنی دوا کو سنبھال کر رکھ چھوڑے اور پھر خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر حضرت عیسی کو کیوں زندہ رکھا۔الله آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضرت عیسی کو زندہ رکھنے اور امت محمدیہ کی اصلاح کیلئے بھیجنے میں رسول کریم ﷺ کی بہتک ہے۔رسول کریم و تو اس سے بڑے معلم تھے اور آپ کا کام اعلیٰ درجہ کے شاگرد پیدا کرنا تھا۔مگر کہا یہ جاتا ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ امت محمدیہ میں فتنہ پیدا ہوگا اس وقت محمد تو کوئی ایسا شاگرد پیدانہ کرسکیں گے جو اس فتنہ کو دور کر سکے۔مگر حضرت عیسیٰ جو حضرت موسی کی امت میں سے تھے، اس کام کیلئے لائے جائیں گے۔نیز اس عقیدہ میں امت محمدیہ کی بھی ہتک ہے۔کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب سے نازک موقع پر خطر ناک طور پر نا قابل ثابت ہوگی۔حتی کہ دجال تو اس میں پیدا ہوں گے مگر مسیح دوسری امت سے آئے گا۔آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضرت مسیح جن کی عزت کیلئے یہ عقیدہ بنایا گیا ہے اس میں ان کی بھی در حقیقت ہتک ہے کیونکہ وہ مستقل نبی تھے۔اگر وہ دوبارہ آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ اس نبوت سے علیحدہ کر دئیے جائیں گے اور انہیں امتی بننا پڑے گا۔زندہ رسول انوار العلوم جلد 10 صفحہ 163 تا 172) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت محمد ﷺ کو زندہ رسول کے طور پر پیش کیا۔چنانچہ اس بارے میں آپ کی چند تحریرات پیش خدمت ہیں۔