مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 305
305 تھے کہ فلاں بات فلاں تفسیر میں لکھی ہے اور اگر کوئی نئی بات پیش کرتا تو کہتے بتاؤ یہ کس تفسیر میں لکھی ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ جو خدا ان تفسیروں کے مصنفوں کو قرآن سکھا سکتا ہے وہ ہمیں کیوں نہیں سکھا سکتا۔اور اس طرح ایک کنویں کے مینڈک کی حیثیت سے نکال کر آپ نے ہمیں سمندر کا تیراک بنا دیا۔(4) چوتھی غلطی لوگوں کو یہ لگ رہی تھی کہ قرآن کریم کے مضامین میں کوئی خاص ترتیب نہیں ہے۔وہ یہ نہ مانتے تھے کہ آیت کے ساتھ آیت اور لفظ کے ساتھ لفظ کا جوڑ ہے۔بلکہ وہ بسا اوقات تقدیم و تاخیر کے نام سے قرآن کریم کی ترتیب کو بدل دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خطر ناک نقص کا بھی ازالہ کیا اور بتایا کہ تقدیم وتاخیر بے شک جائز ہوتی ہے مگر کوئی یہ بتائے کہ کیا صحیح ترتیب سے وہ افضل ہوسکتی ہے۔اگر ترتیب تقدیم و تاخیر سے اعلیٰ ہوتی تو قرآن کی طرف ادنی بات کیوں منسوب کرتے ہو؟ آپ نے آریوں کے مقابلہ میں دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کریم میں نہ صرف معنوی بلکہ ظاہری ترتیب کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔حتی کہ ناموں کو بھی زمانہ کے لحاظ سے ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔سوائے اس کے کہ مضمون کی ترتیب کی وجہ سے انہیں آگے پیچھے کرنا پڑا ہو اور اس میں کیا شک ہے کہ معنوی ترتیب زبانی ترتیب پر مقدم ہوتی ہے۔(5) پانچویں غلطی مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی مطالب قرآن کریم کے متعلق یہ پیدا ہو گئی تھی کہ قرآن کریم میں تکرار مضامین ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم میں ہرگز تکرار مضامین نہیں بلکہ ہر لفظ جو آتا ہے وہ نیا مضمون اور نئی خوبی لے کر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی آیتوں کو پھول سے تشبیہہ دی ہے۔اب دیکھو کہ پھول میں بظاہر ہر نیا دائرہ پتیوں کا تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت ہر دائرہ پھول کے حسن کی زنجیر کو کامل کر رہا ہوتا ہے۔کیا پھول کی پتیوں کے ایک دائرہ کو اگر توڑ دیا جائے تو پھول کامل پھول رہے گا؟ نہیں۔یہی بات قرآن کریم میں ہے۔جس طرح پھول میں ہر پتی نئی خوبصورتی پیدا کرتی ہے اور خدا تعالیٰ پتیوں کی ایک زنجیر کے بعد دوسری بناتا ہے اور تب ہی ختم کرتا ہے جب حسن پورا ہو جاتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں ہر دفعہ کا مضمون ایک نئے مطلب اور نئی غرض کیلئے آتا ہے اور سارا