مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 306 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 306

306 قرآن کریم مل کر ایک کامل وجود بنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ خیال کرنا کہ قرآن کریم کی آیتیں ایک دوسری سے الگ الگ ہیں یہ غلط ہے۔قرآن کریم کی آیتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جسم کے ذرات۔اور سورتوں کی مثال ایسی ہے جیسے جسم کے اجزاء۔مثلاً انسان کے 32 دانت ہوتے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ دانتوں کو 32 دفعہ دہرایا گیا ہے۔اس لیے 31 دانت توڑ ڈالنے چاہئیں اور صرف ایک رہنے دینا چاہیے۔یا انسان کے دوکان ہیں۔کیا کوئی ایک کان اس لیے کاٹ دے گا کہ دوسرا کان کیوں بنایا گیا ہے یا کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انسان کی بارہ پسلیاں نہیں ہونی چاہئیں۔گیارہ تو ڑ دینی چاہئیں۔اگر کسی کی ایک پہلی بھی تو ڑ دے گا تو وہ ضرب شدید کا دعویٰ کر دے گا۔اسی طرح انسان کے جسم پر لاکھوں بال ہیں۔کیا کوئی سارے بال منڈوا کر ایک رکھ لے گا کہ تکرار نہ ہو۔ذرا جسم سے تکرار دور کر دو اور پھر دیکھو کیا باقی رہ جاتا ہے؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے مطالب بیان کر کے تکرار کا اعتراض کرنے والوں کو ایسا جواب دیا ہے کہ گویا ان کے دانت توڑ دیے ہیں۔(6) چھٹی غلطی قرآن کریم کے متعلق مسلمانوں کو یہ لگ رہی تھی کہ قرآن کریم میں عبرت کیلئے پرانے قصے بیان کئے گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شبہ کا بھی ازالہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم میں عبرت کیلئے قصے نہیں بیان کئے گئے۔گو قصص قرآنیہ سے عبرت بھی حاصل ہوتی ہے۔لیکن اصل میں وہ امت محمدیہ کیلئے پیشگوئیاں ہیں اور جو کچھ ان واقعات میں بیان کیا گیا ہے، وہ بعینہ آئندہ ہونے والا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم مسلسل قصہ نہیں بیان کرتا بلکہ منتخب ٹکڑا کا ذکر کرتا ہے۔یہ امر ایسا بد یہی ہے کہ قرآن کریم کے نقص کی جزئیات تک پوری ہوتی رہی ہیں اور آئندہ پوری ہوں گی۔حتی کہ نملہ کا ایک واقعہ قرآن کریم میں آتا ہے۔اس کے متعلق تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون الرشید کے وقت ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔اس وقت بھی نملہ قوم کی حکمران ایک عورت تھی جیسے کہ حضرت سلیمان کے وقت میں تھی۔اس نے ہارون الرشید کے آگے ایک سونے کی تھیلی پیش کی اور کہا کہ ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ حضرت سلیمان کے وقت میں بھی ایک عورت نے ہی تحائف پیش کئے