مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 299 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 299

299 بھی کلام کرے گا۔اب عبد العلی اخوند زادہ صاحب ! میں خدا کی ذات کی قسم کھاتا ہوں ، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا خدا مجھ سے بھی کلام کرتا ہے۔میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کوئی ہے جو دعویٰ سے کہے کہ خدا اس سے بولتا ہے؟ تمام مجمع پر سناٹا چھا گیا اور کچھ دیر خاموشی رہی اور کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو مولوی صاحب نے فرمایا میں ایسے مسلک اور ایسے فرسودہ اسلام کو جو صرف رسومات و بدعات کا اسلام رہ گیا ہے کیا کروں؟ جس میں خدا کلام نہیں کرتا اور کیوں نہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلام کو قبول کروں جو حقیقی اسلام ہے جس سے خدا ملتا ہے اور پیار اور محبت کے کلام سے نوازتا ہے۔(حیات الیاس مصنفہ عبدالسلام خان - صفحہ 118) یہ ہے وہ زندہ خدا اور اس کی زندگی کا ایمان افروز تجر بہ جو حضرت مسیح موعود نے دنیا کو عطا کیا! قرآن مجید کا ارفع مقام قرآن کریم کی عظیم الشان نعمت امت مسلمہ کو عطا کی گئی۔لیکن افسوس کہ حضرت مسیح موعود کے ظہور کے وقت علم و معرفت اور ہدایت کی سرچشمہ یہ کتاب محض ایک سر بستہ کتاب بن کر رہ گئی۔اسے پرانے قصوں کی کتاب کہا جانے لگا۔بعضوں نے حدیث رسول کو قول خدا پر ترجیح دینی شروع کر دی۔کتنی بدنصیبی کہ جو کتاب معارف کا خزانہ اور هدى للناس بنائی گئی تھی ناقدرشناس مسلمان اس کی عظمت اور برکتوں سے کلیہ بے بہرہ ہو گئے۔ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا اور آپ نے قرآن مجید کے حقیقی حسن و جمال سے دنیا کو آگاہ کیا۔آپ نے قرآن مجید کو ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا۔آپ نے نسخ قرآن کے عقیدہ کا بطلان قوی دلائل سے کیا اور ثابت کیا کہ اس عظیم کتاب کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا ایک شعشہ بھی قیامت تک منسوخ یا تبدیل نہیں ہو سکتا۔یہ کتاب علوم و معارف کا خزانہ اور کل دنیا کی نجات کا سر چشمہ ہے۔آپ نے فرمایا:- یقیناً یہ سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے