مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 293 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 293

293 حضرت ملا عبدالرحمن جامی: (817ھ تا 898ھ) حضرت نبی کریم ﷺ کا مشکوۃ باطن ہی محمدی ولایت خاصہ ہے اور وہی بجنسہ خاتم الاولیاء الله حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مشکوۃ باطن ہے۔کیونکہ امام موصوف آنحضرت ﷺ کے ہی مظہر کامل شرح فصوص الحکم ہندی از حضرت ملاعبدالرحمن جامی صفحہ 69) ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی: (1114ھتا1175ھ ) امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کا یہ حق ہے کہ اس میں سید المرسلین ﷺ کے انوار کا انعکاس ہو۔عامۃ الناس یہ گمان کرتے ہیں کہ جب وہ موعود دنیا میں آئے گا تو اس کی حیثیت محض ایک امتی کی ہوگی۔ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا۔اور اسی کا دوسرا نسخہ (TRUE COPY۔ناقل ) ہوگا۔پس اس کے اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔الخیر الکثیر از حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔صفحہ 72۔مدینہ پر لیس بجنور ) شیخ محمد اکرم صابری صاحب نے 1310ھ میں لکھا: یعنی وہ محمد نے ہی تھے جنہوں نے آدم کی صورت میں دنیا کی ابتداء میں ظہور فرمایا۔یعنی صلى الله ابتدائے عالم میں محمد مصطفی ﷺ کی روحانیت بروز کے طور پر حضرت آدم میں ظاہر ہوئی اور محمد ﷺہے ہی ہوں گے جو آخری زمانہ میں خاتم الولایت امام مہدی کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔یعنی محمد مصطفی امی یہ کی روحانیت مہدی میں ظہور اور بروز کرے گی“۔(اقتباس الانوار از شیخ محمد اکرم صابری - صفحه 52) اُردو کے مشہور شاعر جناب امام بخش ناسخ : ( 1188ھ تا 1253ھ) اول و آخر کی نسبت ہوگی صادق یہاں صورت معنی شبیه مصطفی پیدا ہوا دیکھ کر اس کو کریں گے لوگ رجعت کا گماں یوں کہیں گے معجزے سے مصطفیٰ پیدا ہوا ( دیوان ناسخ - جلد دوم صفحہ 54 مطبع منشی نول کشور لکھنؤ 1923ء)