مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 285
285 اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔یہ باتیں انسان کی نہیں۔یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن۔جلد 17 صفحہ 181) کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کادم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسماں پہ دعوتِ حق کیلئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں شار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار اسمعوا صوت السماء جاء ایچ جاء ایچ ، جاء أصبح جاء صبیح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسماں بارد نشاں الوقت مے گوید زمیں این دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار اب اسی گلشن میں لوگوں راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہوگیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داوؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101-103) مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمین سے کیا نقار