مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 229 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 229

229 جانب رہنمائی کر سکتی تھی وہ سب اس صوبے ( پنجاب ) کے ان تمام باشندوں پر پوری شدت سے نازل ہوئیں۔جہاں جہاں ان یورشیوں کے قدم پہنچے صرف ان لوگوں کو زندہ چھوڑا گیا جنہوں نے سکھ دھرم قبول کر لیا اور سکھوں کی سی وضع قطع کے پابند ہو گئے“۔۳۵ رنجیت سنگھ پنجاب اور کشمیر پر قابض تھا اور اب سرحد کی طرف بھی پیش قدمی کرتے ہوئے تباہی مچار ہا تھا۔اور سکھ راج کی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے آریچ اپنے سفر ہند میں لکھتا ہے :- و سکھوں کے مذہبی پیشواؤں یا اکالیوں میں رواداری اور اعتدال بالکل ناپید ہے اور مسلمان مجبور ہیں کہ اپنے مذہبی فرائض چھپ کر ادا کریں“۔اسے ایسے حالات میں سید صاحب نے اپنے ساتھیوں کو جہاد کی دعوت دی۔یہ دعوت سراسر سکھوں کے خلاف تھی کیونکہ وہ دین میں مزاحم ہو رہے تھے۔انگریز آپ کے مدمقابل نہیں تھے۔انگریزوں سے جہاد کے بارہ میں جماعت احمدیہ اور سید صاحب ہم مسلک ہیں بعض معترضین ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے انگریزوں کی تعریف کی اور ان کے خلاف جہاد کو خانہ جنگی اور بغاوت سے تعبیر کیا ہے۔اس بارہ میں مرزا صاحب کے ارہاص سید احمد شہید جو تیرھویں صدی کے مجدد ہیں کا کیا عقیدہ تھا۔اس کا اندازہ اس حوالہ سے آپ خود لگا سکتے ہیں۔مولا نا جعفر تھانیسری جو سید صاحب کے معتمد اور رفیق تھے لکھتے ہیں کہ سفر حج کے دوران کسی نے سید صاحب سے انگریزوں کے خلاف جہاد کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا :- ایسی بے ریا اور غیر متعصب سرکار سے کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں ہے۔اس وقت پنجاب میں سکھوں کا ظلم اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ ان پر جہاد کیا جائے“۔جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنی دور جا کر سکھوں سے جہاد کرتے ہیں ، یہاں رہ کر انگریزوں کے خلاف کیوں نہیں کرتے۔تو آپ نے فرمایا :- سکھوں سے جہاد کرنے کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے برادران اسلام پر ظلم کرتے ہیں اور اذان وغیرہ فرائض مذہبی کے ادا کرنے کے مزاحم ہوتے ہیں۔اگر سکھ اب یا