مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 211 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 211

211 سے معاشرہ کا مطالعہ کیا اور پھر جس جگہ کمی محسوس ہوئی اس کی نشاندہی کر دی۔احمدیت اور شاہ ولی اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو بارھویں صدی کا مجدد تسلیم کیا ہے۔فرمایا: - وہ مجدد تھے، عالم ربانی تھے۔آپ چھوٹے بڑے سب کی نظروں میں مانے ہوئے " امام ہیں۔جن کی بلندشان میں کسی مومن کو اختلاف نہیں ہے“۔سے آپ چونکہ مہدی موعود کے قریبی زمانے میں تھے اس لیے آپ نے وقت کی علامات کو بھانپتے ہوئے اور خدا سے فہم پا کر یہ بات سمجھ لی تھی کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ عنقریب مہدی کے ظہور کا وقت ہوگا۔چنا نچہ تقسیمات الہیہ میں فرماتے ہیں:۔يمي كنت البسني الله سبحلنده ية حين انتهت بي دورة المحكمة دورة المحل حمام الميس الحلقة الختامية وسلب عنى كل على نظري فكري بـ وراكيف يتأنى فى المجلدية ثمار ضع جلا جلا الطريق الخاص تجمع بها بين الأمية والمجددية بلا نظر فكري والى الى الآن هرامنح تفصيل المجددية ومنحت اجمالها وعلمت علم الجمع بين المختلفات وعلمت ان الراى في الشريعة تحريف وفي القضاء فكرة اس ۲۸ (ترجمہ) مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ قیامت قریب آگئی اور مہدی ظاہر ہونے ہی والا ہے۔متاخرین کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد اب کمال کی نشو و نمارک گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ مہدی لمبے زمانے کے انتظار کی پرواہ نہ کرے۔سبحان اللہ! یہ زمانہ فتنوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔کسی انسان کے باکمال ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس میں حامل وحی کے انوار منعکس ہوں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس حوالے سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک مہدی کی علامات کافی حد تک پوری ہو چکی تھیں۔دوسرے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ان صدیوں میں مہدی کا انتظار شدت سے ہوا کرتا تھا۔تیسرے مہدی موعود کے مقام کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مسجد دوقت بھی ان کے منتظر ہیں۔مسئلہ بروز کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا : - کا تب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک