مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 184
184 ایک فرض کا ایک وقت میں ادا کرنا ہزار سال کے نوافل ادا کرنے سے بہتر ہے اگر چہ خالص نیت سے ادا ہوں“۔اسی طرح فرمایا: ” کار دین اور نجات اخروی کا مدار عشق رسول اور اپنے شیخ کے ساتھ اخلاص میں ہے۔ھے حقوق العباد آپ نے حقوق العباد اور اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا ”بعض علماء ربانی فرماتے ہیں کہ جب تک انسان ان دس چیزوں کو اپنے اوپر فرض نہ کرلے کامل ورع حاصل نہیں ہوتی۔ا۔زبان کو غیبت سے بچائے۔۲۔بدظنی سے بچے۔- مسخرہ پن یعنی ہنسی ٹھٹھے سے پر ہیز کرے۔۴۔حرام سے آنکھ بند کرے۔۵۔سچ بولے -۶۔ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا احسان جانے تا کہ اس کا نفس مغرور نہ ہو۔اپنا مال راہ حق میں خرچ کرے اور راہ باطل میں خرچ کرنے سے بچے۔اپنے نفس کیلئے بلندی اور بڑائی طلب نہ کرے۔۹۔نماز کی محافظت کرے۔۱۰۔اہل سنت و جماعت پر استقامت اختیار کرے۔۱۶ء وحدت الشہود شروع میں آپ وحدۃ الوجود کے قائل تھے لیکن رفتہ رفتہ آپ سلوک کی منازل طے کرتے رہے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی گئی کہ ذات حق صفات سے جدا ہے۔چنانچہ پھر آپ نے اسی عقیدے کا اظہار فرمایا۔صفات عین ذات نہیں بلکہ زائد علی الذات ہیں۔اللہ تعالیٰ کا وجود فی ذاتہ کامل ہے اس لیے اپنی تکمیل کیلئے صفات کی احتیاج نہیں۔صفات اس کے وجود کی معین اور مددگار ہیں۔وہ موجود ہے لیکن اس کا وجود خود اس کی ذات سے ہے۔وہ سمیع ہے اپنی ذات سے، وہ علیم ہے اپنی ذات سے۔غرض اللہ تعالیٰ کی صفات عین ذات نہیں بلکہ اس کی ذات کے